بلوچستان میں اساتذہ کی بھرتیوں کا “میگا اسکینڈل” بے نقاب: میرٹ کا قتل، فیل امیدواروں کو ٹاپ پوزیشنز دے کر نوکریاں بانٹ دی گئیں

بلوچستان ایجوکیشن اسکینڈل: سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی ٹیسٹنگ میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے دستاویزی ثبوت سامنے آگئے۔


اساتذہ بھرتی کیس: 2 لاکھ امیدواروں کا امتحان، فیل ہونے والے 600 امیدواروں کی جوابی کاپیاں (Answer Sheets) منظر عام پر۔
ٹیسٹ میں 18 نمبر لینے والے کو 54 نمبر دے کر پاس کیا گیا، فیل امیدواروں کو ٹاپ پوزیشنز دے کر بھرتی کر لیا گیا۔
وائس چانسلر کی برطرفی کے باوجود کرپشن کا نیٹ ورک نہ ٹوٹ سکا، اینٹی کرپشن اور نیب کی خاموشی سوالیہ نشان بن گئی۔
کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان میں تعلیمی تاریخ کا ایک اور شرمناک باب رقم ہوگیا۔ صوبے میں طویل تعطل کے بعد ہونے والی 8 ہزار سے زائد اساتذہ کی بھرتیوں میں بڑے پیمانے پر کرپشن اور بدعنوانی کا “میگا اسکینڈل” بے نقاب ہو گیا ہے۔ سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی (SBKWU) کے زیر اہتمام ہونے والے ٹیسٹ میں میرٹ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ٹیسٹ میں فیل ہونے والے سینکڑوں امیدواروں کو نہ صرف پاس کیا گیا بلکہ انہیں ٹاپ پوزیشنز دے کر تعیناتی کے لیٹرز بھی جاری کر دیے گئے۔
دھاندلی کے ٹھوس دستاویزی ثبوت: نجی ٹی وی (آج نیوز) کے بیورو چیف مجیب احمد کی تحقیقاتی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 600 ایسے امیدواروں کی اصل جوابی کاپیاں (Answer Sheets) اور امتحانی کیز (Keys) حاصل کر لی گئی ہیں جو ٹیسٹ میں بری طرح فیل تھے، لیکن حتمی میرٹ لسٹ میں انہیں کامیاب قرار دے کر نوکریاں دی گئیں۔
دستاویزات کے مطابق کئی امیدواروں نے ٹیسٹ میں صرف 18 نمبر حاصل کیے تھے، لیکن ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کر کے انہیں 54 یا اس سے زائد نمبر دیے گئے تاکہ ان کا ایگریگیٹ 60 فیصد سے اوپر جائے اور انہیں نوکری مل سکے۔

یہ دھاندلی صرف کوئٹہ تک محدود نہیں بلکہ تربت، پشین، قلات، خضدار، پنجگور، خاران، نوشکی اور دالبندین سمیت صوبے کے تمام اضلاع میں کی گئی۔
رشوت کے ریٹ اور کرپشن کا بازار: تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ان بھرتیوں میں اہلیت کے بجائے پیسے کو ترجیح دی گئی۔ ذرائع کے مطابق:
یہ عمل 2023 میں شروع ہوا جب 8,960 اسامیوں کے لیے تقریباً 2 لاکھ امیدواروں نے درخواستیں جمع کرائیں۔
شکایات پر دسمبر 2023 میں بلوچستان ہائیکورٹ نے بھرتیوں کا عمل فریز کر دیا۔
مارچ 2024 میں سپریم کورٹ نے پابندی ہٹائی اور شفافیت کی ہدایت کی۔
مئی 2024 میں کابینہ نے کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتی کی منظوری دی اور بے قاعدگیوں کے الزام میں ایس بی کے (SBKWU) کی وائس چانسلر ساجدہ نورین کو عہدے سے برطرف کیا گیا۔
کرپشن کا منظم نیٹ ورک (Nexus): رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ محض وائس چانسلر کی برطرفی سے معاملہ حل نہیں ہوا کیونکہ اس دھاندلی میں ملوث پورا نیٹ ورک اب بھی موجود ہے۔ اینٹی کرپشن اور نیب جیسے اداروں کی موجودگی کے باوجود، صرف کاغذات کی اوپری جانچ پڑتال کی گئی اور کسی نے “جوابی کاپیوں” (Answer Sheets) کو چیک کرنے کی زحمت نہیں کی، جس کی وجہ سے یہ میگا اسکینڈل دب کر رہ گیا تھا۔
عوام اور امیدواروں کا ردعمل: صوبے بھر کے ذہین اور قابل امیدواروں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ فیل شدہ امیدواروں کی بھرتی سے نہ صرف میرٹ کا قتل ہوا ہے بلکہ بلوچستان کے تعلیمی نظام کی تباہی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ سول سوسائٹی اور متاثرہ امیدواروں نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور اعلیٰ عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ان 600 جوابی کاپیوں کو بنیاد بنا کر پورے عمل کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے اور کرپشن میں ملوث تمام کرداروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔

WhatsApp
Get Alert