بلوچستان لیکس کے نام پر بلیک میلنگ نہیں چلے گی، سائبر کرائم حکام طلب، کردار کشی کرنے والوں کو بے نقاب کرنے کا حکم: اسپیکر اسمبلی

اراکین اسمبلی کے خلاف منفی پروپیگنڈا ناقابل برداشت ہے، جعلی مہم چلانے والے قانون کی گرفت سے نہیں بچیں گے: یونس زہری، رحمت صالح، ہدایت الرحمان و دیگر کا اظہار خیال


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان اسمبلی نے “بلوچستان لیکس” کے نام سے سوشل میڈیا پر جاری منفی پروپیگنڈے، جھوٹے الزامات اور اراکین کی کردار کشی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو طلب کر لیا ہے۔ اسپیکر عبدالخالق خان اچکزئی نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ اسمبلی بلیک میلنگ کے سامنے ہرگز سر نہیں جھکائے گی اور اس مہم کے پیچھے چھپے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
یہ معاملہ قائد حزب اختلاف یونس عزیز زہری نے نکتہ اعتراض پر اٹھایا۔ اجلاس میں اسپیکر، قائد حزب اختلاف سمیت رحمت صالح بلوچ، فرح عظیم شاہ، خیر جان بلوچ، مولانا ہدایت الرحمٰن، نور محمد دمڑ، علی مدد جتک، سنجے کمار اور فضل قادر مندوخیل نے شرکت کی۔ اراکین نے متفقہ طور پر کہا کہ احتساب کے لیے تیار ہیں مگر بلا ثبوت الزامات اور جعلی آئی ڈیز کے ذریعے کردار کشی جمہوری اداروں کی ساکھ متاثر کرنے کی سازش ہے۔
اجلاس میں شریک ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائم طارق خان نے بتایا کہ ابتدائی کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور سیکشن 20 اور 26-A کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ اسپیکر نے ہدایت کی کہ تمام قانونی و تکنیکی وسائل بروئے کار لا کر سب سے پہلے مذکورہ پیج کو بے نقاب کیا جائے اور ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں بلوچستان لیکس کو بے نقاب کیا جائے گا، کسی کو رعایت نہیں ملے گی۔

WhatsApp
Get Alert