کوئٹہ سمیت بلوچستان میں یخ بستہ ہواؤں کا راج، گیس غائب، شہری لکڑیاں جلانے پر مجبور، خشک سردی سے امراض میں 50 فیصد اضافہ
وزیراعظم کی ترقی کے دعوے دھرے رہ گئے، ہم 50 سال پیچھے چلے گئے، ہسپتالوں میں ڈاکٹرز ہیں نہ ادویات: عوامی حلقوں کی دہائی

کوئٹہ( ڈیلی قدرت کوئٹہ)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں یخ بستہ ہواؤں کا سلسلہ شروع ہے ‘گیس غائب ‘یخ بستہ او ر خشک ہوا سے نہ صرف سردی کی شدت میں اضافہ ہوا بلکہ مختلف بیماریوں جس میں گلے‘کان ‘سینے نے سراٹھا لیا اس سال گزشتہ سالوں کی بہ نسبت بارش نہ ہونے کی وجہ سے کانسی ‘ٹائیفائڈ اور سینے کی بیماری سمیت دیگر میں 50 فیصد تک اضافہ ہوا ہے عوامی حلقوں نے جب سرکاری ہسپتالوں کا رخ کیا تو مایوس ہوگئے ادویات اور ڈاکٹرز نہ ہونے کی وجہ سے عوا م کو مشکلات اسی طرح جب لوگوںنے سوئی سدرن گیس کمپنی آفس جا کر شکایت کی تو سننے اور پوچھنے والا کوئی نہیں ہے ایسے لگ رہا ہے کہ یہاں پر جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا سلسلہ بدستور جاری ہے واضح رہے کہ حسب معمول دوسرے سالوں کی طرح اس سال بھی گیس کی پریشر اور لوڈشیڈنگ میں نہ صرف کمی ہے بلکہ اس سال تو ایسا لگ رہا ہے کہ گیس ہی نہیں گیریز بند ہیٹر بند کھانے بازار اور پانی پچھلے پچاس سال فارمولا استعمال ہوتے ہیں یعنی لکڑیوں سے گرم کیا جارہا ہے ہمارے حکمران اور خاص کر وزیراعظم شہباز شریف فخریہ انداز میں کہتے ہیں کہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا اس کی ترقی یہ ہے ہے کہ ہم پچاس سال والے پیچھے چلے گئے ہیں اس سال شدید سردی جس میں خشکی بھی شامل ہے عوام اس سردی سے محفوظ راستہ نکالنے کیلئے جب ہیٹرز جلاتے ہیں تو چولہا تک نہیں جلاسکتے اس صورتحال میں عوام نے احتجاج اخباری بیانات متعلقہ افیسران کے دوروازے پر دستک لیکن کوئی شنوائی نہیں ہے اور نہ ہی ان کا راستہ معلوم ہوسکتا ہے عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا کہ خدارا بلوچستان پر رحم کریں اور عوام گیس کی لوڈشیڈنگ پر نظر ثانی کیا جائے۔
