یہ ملک فوج کا ہے یا عوام کا؟ ایجنسیاں سیاست چھوڑ دیں، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بغیر مذاکرات ممکن نہیں: محمود خان اچکزئی


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)چیئرمین پشتونخوا ملی عوامی پارٹی محمود خان اچکزئی نے “تحفظ آئین پاکستان کانفرنس” سے خطاب کرتے ہوئے مقتدرہ قوتوں پر کڑی تنقید کی اور واضح کیا کہ یہ ملک عوام کا ہے، اسے کالونی نہ سمجھا جائے اور جس کے پاس بندوق ہے اسے سیاست کرنے کا کوئی حق نہیں، لہٰذا ایجنسیاں اپنی آئینی حدود میں رہیں۔ انہوں نے موجودہ حکومت کے قیام کو 8 فروری کے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں مگر اس کی پہلی اور بنیادی شرط یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ان کی پارٹی قیادت اور خاندان کو ملاقات کی اجازت دی جائے، اس کے بغیر کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی۔
محمود خان اچکزئی نے خبردار کیا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں جنگ کی سی کیفیت ہے، اگر عوام اپنی فوج سے لڑ پڑے تو ملک کی تباہی ہوگی، لہٰذا بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ایک شفاف الیکشن کمیشن، “ایک فرد ایک ووٹ” اور پارلیمنٹ کی مکمل بالادستی ہے جس کے لیے تمام اداروں، سیاستدانوں اور دانشوروں کو مل بیٹھ کر گرینڈ ڈائیلاگ کرنا ہوگا۔

WhatsApp
Get Alert