ملک میں اعلانیہ مارشل لا نافذ ہے، میڈیا قیادت مزاحمت کے بجائے فنڈز اور پلاٹوں کے پیچھے بھاگ رہی ہے: مطیع اللہ جان


اسلام آباد(قدرت روزنامہ) سینیئر صحافی مطیع اللہ جان نے موجودہ ملکی صورتحال کو جنرل ضیاء الحق کے دور کی طرح “اعلانیہ مارشل لا” قرار دیتے ہوئے صحافتی تنظیموں اور پریس کلبز کی قیادت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج میڈیا کا ایک طبقہ نشانے پر ہے جسے ماضی کی طرح غدار اور ایجنٹ کے القابات سے نوازا جا رہا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ اور صحافتی تنظیمیں مزاحمت کرنے کے بجائے حکومت سے فنڈز، اسکیموں اور پلاٹوں کے حصول میں مصروف ہیں۔
مطیع اللہ جان نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ یہ صرف سیاسی جماعتوں کی چپقلش ہے اور کہا کہ میڈیا لیڈر شپ آج بھی فرسودہ سیاست میں الجھی ہوئی ہے۔
جبکہ سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر شہری صحافی بن چکا ہے۔ دورانِ خطاب پی ایف یو جے کے ایک رہنما کی جانب سے ٹوکنے اور ہنگامہ آرائی کی کوشش کے باوجود مطیع اللہ جان نے اپنا موقف ڈٹ کر بیان کیا اور کہا کہ جب تک ہم اپنے گریبان میں نہیں جھانکیں گے اور مفادات کی سیاست نہیں چھوڑیں گے، حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کر سکیں گے۔

WhatsApp
Get Alert