بلدیاتی الیکشن سے فرار جمہوری اقدار سے انحراف، اقتدار نہیں خدمت ہماری سیاست ہے: مولانا عبدالواسع

مدارس کے دفاع پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، 28 دسمبر کو کوئٹہ کے عوام نعروں اور عمل کا فرق واضح کر دینگے: دستار فضیلت کانفرنس سے خطاب


کوئٹہ( ڈیلی قدرت کوئٹہ)صوبائی امیر جے یو آئی بلوچستان سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہاکہ بلدیاتی انتخابات سے راہِ فرار اختیار کرنے والوں کا موقف نہ صرف ناقابلِ فہم ہے بلکہ یہ جمہوری اقدار سے صریح انحراف۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر جمہوریت کے دعوے تو کیے جاتے ہیں، مگر جب عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا وقت آتا ہے تو مختلف حیلے بہانوں کے ذریعے انتخابی عمل کو مؤخر یا سبوتاڑ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ طرزِ فکر اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ بعض عناصر عوامی فیصلے سے خوفزدہ ہیں۔جمعیت علماء اسلام کے نزدیک خدمتِ خلق میں عہدہ اور منصب کوئی اعزاز نہیں بلکہ ایک شرعی، اخلاقی اور قومی امانت ہے، خواہ وہ سرکاری ذمہ داری ہو یا جماعتی منصب۔ ہماری سیاست کی بنیاد اقتدار نہیں بلکہ رہنمائی، خدمت اور جواب دہی ہے۔ اسی اصولی موقف کی بنا پر ہم ہر سطح پر بروقت اور شفاف بلدیاتی انتخابات کے حامی ہیں اور کسی بھی امتیازی سلوک کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں، خصوصاً جب ضلعی کوئٹہ کے عوام کو اس بنیادی جمہوری حق سے محروم رکھا جا رہا ہو۔جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ انتخابی میدان میں ایسے افراد کو آگے بڑھایا ہے جن کی دیانت داری، عوامی خدمات، کردار کی پختگی اور جماعت کے ساتھ مخلصانہ رفاقت کسی شک و شبہے سے بالاتر رہی ہے۔ اگرچہ بلدیاتی نمائندوں کا دائرہ قانون سازی تک محدود نہیں، تاہم جے یو آئی کے نمائندے عملی طور پر محلّہ، گلی اور بستی کی سطح پر عوامی وسائل کے امین بن کر خدمت سرانجام دیتے ہیں۔28 دسمبر کو کوئٹہ کی سرزمین ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار کرے گی کہ محض نعروں اور عملی کردار میں واضح فرق ہوتا ہے، اور عوام بخوبی پہچانتے ہیں کہ کون خدمت کا وارث ہے اور کون محض دعووں کا اسیر۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، جٹک اسٹاف میں منعقدہ سالانہ دستارِ فضیلت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مدارسِ دینیہ نے ہر دور میں دینِ اسلام کی حفاظت، اخلاقی تربیت، سماجی ہم آہنگی اور نظریاتی استحکام میں تاریخی اور ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا ہے۔ یہ مدارس نہ صرف علم و تقویٰ کے مراکز ہیں بلکہ معاشرے میں امن، برداشت اور دینی شعور کے فروغ کا مضبوط ذریعہ بھی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ مدارسِ دینیہ کے دفاع، تحفظ اور استحکام کے لیے عملی جدوجہد کی ہے، چاہے وہ آئینی سطح پر ہو، پارلیمانی محاذ پر یا عوامی پلیٹ فارم پر۔ مدارس کے وقار، آزادی اور دینی تشخص پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی آئندہ کیا جائے گا۔ جے یو آئی نے ہر مشکل گھڑی میں مدارسِ دینیہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ان کے حقوق کا دفاع کیا ہے اور یہ جدوجہد مستقبل میں بھی پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جمعیت علماء اسلام اپنی بنیادی تنظیم کے ذریعے آج بھی عوامی خدمت میں پیش پیش ہے اور عوامی فلاح کے ساتھ ساتھ سرکاری وسائل کی منصفانہ، شفاف اور موزوں تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے ہر سطح پر اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

WhatsApp
Get Alert