کوئٹہ کی خوبصورتی میں رکاوٹیں برداشت نہیں، سمنگلی روڈ پر تجاوزات کیخلاف ایکشن، بلوچستان ہائیکورٹ کا ٹھیلے والوں کیلئے ’لاہور ماڈل‘ نافذ کرنے کا حکم

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان ہائیکورٹ نے کوئٹہ ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کے ڈائریکٹر کو ہدایت کی ہے کہ میتھوڈسٹ چرچ کے قریب مونومنٹ کی تعمیر کو کرسمس اور ایسٹر کے تہواروں کے پیش نظر ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے، خاص طور پر امداد چوک کارنر پر کام تیز کیا جائے۔ یہ احکامات چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس نجم الدین مینگل نے آئینی درخواست نمبر 824/2016 کی سماعت کے دوران دیے ۔
عدالت میں سریاب روڈ اور اسٹارم واٹر ڈرین (برساتی نالے) کی پیشرفت رپورٹ پیش کی گئی، جس کے مطابق برساتی نالے کا 98 فیصد کام (15675 میٹر) مکمل ہو چکا ہے، جبکہ روڈ کا 13500 میٹر اسفالٹ بیس کورس بھی مکمل کر لیا گیا ہے ۔ ائیرپورٹ روڈ پر ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ آزمائشی بنیادوں پر نصب کر دیا گیا ہے جس کی سولرائزیشن کا عمل جاری ہے ۔
سمنگلی روڈ پر تجاوزات کے حوالے سے کنٹونمنٹ بورڈ کے وکیل نے بتایا کہ تجاوزات ہٹانے کے لیے ہیومن ریسورس کے فنڈز دستیاب نہیں ۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ سمنگلی روڈ کی توسیع کے بعد بینظیر پارک کے قریب فٹ پاتھ سڑک میں ضم ہو گئے ہیں جہاں پھل فروشوں نے دوبارہ رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں ۔
عدالت نے پراجیکٹ ڈائریکٹر کو ہدایت کی کہ لاہور میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ماڈل کی طرز پر سمنگلی روڈ کی دکانوں اور جیل روڈ پر ہدیٰ قبرستان کے درمیان پلاٹ پر ٹھیلے والوں کے لیے جگہ اور میکنزم بنایا جائے ۔ کیس کی سماعت کے دوران کیسکو حکام نے یقین دہانی کرائی کہ ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ بننے والے بجلی کے کھمبوں کو ہٹانے میں بھرپور تعاون کیا جائے گا ۔ عدالت نے کیس کی سماعت 5 مارچ 2026 تک ملتوی کر دی ۔
