علیمہ خان نے مذاکرات سے متعلق کسی کے پاس اختیار نہ ہونے کی بات کیوں کی؟ بیرسٹر گوہر نے بتا دیا


راولپنڈی(قدرت روزنامہ)چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ اگر محمود خان اچکزئی کے پاس مذاکرات کا مینڈیٹ موجود ہے تو انہیں بات چیت کرنی چاہیے، تاہم اگر علیمہ خان یہ کہہ رہی ہیں کہ کسی کے پاس یہ اختیار نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی نیا پیغام موصول ہوا ہوگا۔
راولپنڈی کے داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہاکہ آج ملاقات کے امکانات کم نظر آ رہے ہیں، لیکن ملاقات کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ ان کے مطابق ملک پہلے ہی سنگین مسائل کا شکار ہے اور حالات مزید خراب ہو رہے ہیں، اس لیے سال کے اختتام سے قبل ملاقات ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ بہنوں کی ملاقات کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے اور بشریٰ بی بی کے اہلِ خانہ کو بھی ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے۔


چیئرمین پی ٹی آئی نے کہاکہ عوام کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے بارے میں آگاہی ملنی چاہیے کیونکہ یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ اگر مقدمات کے فیصلے بروقت ہو جاتے تو سابق وزیراعظم آج باہر ہوتے۔ جب ایسا نہیں ہو سکا تو کم از کم ملاقات کا حق تو دیا جائے۔
انہوں نے کہاکہ ملاقاتیں روکے جانے سے عوام میں غلط تاثر جا رہا ہے اور معاشرے میں نفرت بڑھ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کب تک یہ صورتحال برقرار رہے گی؟ ہر منگل کو یہاں آتے ہیں لیکن ملاقات نہیں ہونے دی جاتی، آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ اگر اہلِ خانہ کو ملاقات کی اجازت دی جائے تو مثبت خبریں سامنے آ سکتی ہیں، ایک بار یہ قدم اٹھا کر دیکھا جائے۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات سے متعلق گفتگو پر بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہاکہ اس معاملے پر علیمہ خان کا مؤقف سب کے سامنے ہے، اس لیے وہ مزید تبصرہ نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق تحریری طور پر جو ہدایات موجود ہیں، ان میں بانی پی ٹی آئی عمران خان نے واضح کیا تھا کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس مذاکرات کریں گے۔
اگر مذاکرات نہ کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو یہ اختیار بھی انہی کے پاس ہے۔ تاہم اگر کہا جا رہا ہے کہ کسی اور کو اختیار حاصل نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی اور پیغام آیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہاکہ چاہے مزاحمت کا راستہ ہو یا مفاہمت کا، بات چیت کا دروازہ کھلا رہنا چاہیے۔ اگر پی ٹی آئی حکومت میں ہوتی تو معاملات کو مختلف انداز میں دیکھا جاتا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا موجودہ رویہ درست نہیں، حکومتیں اپوزیشن کے مینڈیٹ کو تسلیم کرتی ہیں اور مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھتی ہیں۔ یہاں صورتحال یہ ہے کہ پولیس موجود ہوتی ہے، ہم آتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں، عدالتوں کے احکامات پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، جو حکومت کی ذمہ داری ہے۔

WhatsApp
Get Alert