بلوچستان گرینڈ الائنس کا احتجاج، 30 اور 31 دسمبر کو صوبے بھر میں لاک ڈاؤن اور ہڑتال کا اعلان
وزیراعلیٰ کے پاس ٹک ٹاک کیلئے وقت ہے، ملازمین کیلئے نہیں، مطالبات نہ مانے گئے تو سڑکوں پر فیصلے ہوں گے: عبدالقدوس کاکڑ

کوئٹہ( ڈیلی قدرت کوئٹہ)بلوچستان گرینڈ الائنس کی طرف سے مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین کی بڑی تعداد نے احتجاجی ریلی نکالی۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اور سیاہ جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔ ریلی مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی پریس کلب پہنچی، جہاں تنخواہوں پر ٹیکس میں کمی سمیت دیگر مطالبات کے لیے احتجاج کیا گیا اور 40 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ حکومت کے حوالے کیا گیا۔گرینڈ الائنس کے سربراہ عبدالقدوس کاکڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کئی بار مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں، کمیٹیاں بنا کر وقت ضائع کیا گیا اور حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی وعدے بار بار توڑے گئے ہیں،

تاہم مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رہے گی۔عبدالقدوس کاکڑ نے مزید کہا کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو فیصلے سڑکوں پر ہوں گے۔ انہوں نے وزیراعلی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین سے ملاقات کے لیے وقت نہیں، لیکن ٹک ٹاک کے لیے وقت موجود ہے۔ ڈی آر اے میں اضافے کے لیے بجٹ نہ ہونے کے مقف کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومتی عیاشیوں کے لیے وافر بجٹ موجود ہے اور بلوچستان کا 80 فیصد بجٹ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔عبدالقدوس کاکڑ نے واضح کیا کہ وہ سرکاری ملازم ضرور ہیں مگر سب سے پہلے ریاست کے وفادار ہیں، اور حکمرانوں کے بچے بیرون ملک علاج کراتے ہیں جبکہ ہمارے بچے علاج کے بغیر دم توڑ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی وجہ سے ایک ہی ریاست میں دو دستور نافذ ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 30 اور 31 دسمبر کو پورے بلوچستان میں لاک ڈان ہوگا اور اس دوران سرکاری دفاتر مکمل بند رہیں گے۔
