تربت: لاپتہ افراد کی عدم بازیابی پر دھرنا دوسرے روز بھی جاری، کوئٹہ شاہراہ بند

حاملہ خاتون اور طالب علموں کو رہا کیا جائے، مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا: مظاہرین کا مطالبہ


تربت( ڈیلی قدرت کوئٹہ)تربت ٹو کوئٹہ شاہراہ کے تجابان کے مقام پر احتجاجی مظاہرین نے دوسرے روز بھی سڑک بند رکھی ہوئی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ پانچ روز کے دوران ان کے چار رشتہ دار لاپتہ ہو گئے ہیں، جن میں حاملہ خاتون اور دو طالبعلم بھی شامل ہیں۔مظاہرین نے بتایا کہ فیملی کی دو خواتین سمیت چار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان کی رہائی تک احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر لاپتہ افراد کی رہائی کے لیے کردار ادا کرے۔اسسٹنٹ کمشنر تربت نے مظاہرین سے مذاکرات کی کوشش کی، مگر کامیابی نہ ہوئی۔ احتجاج کے باعث سی پیک روڈ سمیت اہم شاہراہ بند ہونے کی وجہ سے مسافر اور مال بردار گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور سفر کرنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مظاہرین نے اعلان کیا ہے کہ جب تک لاپتہ افراد کو رہا نہیں کیا جاتا، دھرنا جاری رہے گا اور احتجاجی مظاہرہ سڑک بند رکھنے کی صورت میں برقرار رہے گا۔

WhatsApp
Get Alert