پاک افغان بارڈر 75 روز سے بند، افغان تاجروں کو 5 کروڑ ڈالر کا نقصان، زرعی برآمدات رک گئیں

انگور، انار اور سیب خراب ہوگئے، ہزاروں افراد بے روزگار، تجارتی راستے فوری کھولے جائیں: چیمبر آف کامرس کا مطالبہ


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)افغانستان اور پاکستان کے درمیان پاک افغان بارڈر اور اہم تجارتی راستے تقریبا 75 روز سے بند ہیں، جس کے باعث افغان پھل و سبزی تاجروں کو کم از کم پانچ کروڑ ڈالر کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ طویل بندش نے دونوں ممالک کی تجارتی انڈسٹریز کو شدید مالی بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔افغان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے حکام نے بتایا کہ بارڈر بند ہونے کے باعث افغانستان کی زرعی برآمدات مکمل طور پر رک گئی ہیں۔ خاص طور پر انگور، انار، سیب، خشک میوہ جات اور تازہ سبزیاں پاکستان کے راستے مختلف ممالک کو برآمد نہیں ہو سکیں، جس سے بڑی مقدار میں پھل اور سبزیاں خراب ہو گئیں اور تاجروں کو کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا۔بارڈر بندش کے اثرات ٹرانسپورٹ، کولڈ اسٹوریج، پیکنگ اور ایکسپورٹ سے وابستہ ہزاروں افراد تک پہنچ چکے ہیں۔ افغانستان کی زرعی انڈسٹری، فوڈ پروسیسنگ یونٹس اور لاجسٹکس سیکٹر شدید متاثر ہوئے ہیں۔ پاکستان میں بھی پھل و سبزی منڈیاں، فوڈ انڈسٹری، ہوٹلنگ سیکٹر اور ایکسپورٹ سے وابستہ کاروبار متاثر ہوئے ہیں، جس سے قیمتوں میں اضافہ اور پیداوار میں کمی واقع ہوئی۔افغان تاجروں اور صنعتکاروں نے دونوں ممالک کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے تجارتی راستے فوری طور پر کھولے جائیں۔ چیمبر آف کامرس کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں نقصان پانچ کروڑ ڈالر سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے اور خطے کی زرعی و تجارتی انڈسٹری طویل المدتی بحران کا شکار ہو جائے گی۔

WhatsApp
Get Alert