کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو “جسٹس آف پیس” کے اختیارات دینا عدلیہ کے نظام کو مفلوج کرنے کی سازش ہے: عدلیہ کی آزادی سلب کرنے کا نوٹیفکیشن فوری واپس لیا جائے : پشتونخوا میپ

اسلام آباد (ڈیلی قدرت کوئٹہ) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات تالیمند خان نے اپنے اخباری بیان میں حکومت بلوچستان کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جس کے تحت صوبہ بھر کے ڈویژنل کمشنرز، ایڈیشنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو جسٹس آف پیس کے تحت سی آر پی سی کے دفعہ 22-Aاور 22-Bضابطہ فوجداری کے اختیارات تفویض کیئے گئے ہیں۔ حکومت بلوچستان کا نوٹیفکیشن آئین اور قانون کی صریحاً خلا ف ورزی کے مترادف ہے اورچھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم میں عدلیہ کا حلیہ جس بھونڈے انداز سے بھگاڑا گیا اور اُن کے اختیارات کا خاتمہ کیا گیا اسی طرح اب صوبائی حکومت عدالتی نظام کے متوازی نظام قائم کرکے عدلیہ کی خودمختاری کی پائمالی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے کے انتظامی آفیسران کو عدلیہ میں مداخلت کی نوٹیفکیشن دراصل عدلیہ کے نظام کو مفلوج کرنے اور عدالتی آزادی اور اُن کے اختیارات کی پائمالی کے سوا کچھ نہیں۔ اور پارٹی کا مطالبہ ہے کہ غیر آئینی وغیر قانونی نوٹیفکیشن کو فوراً واپس لیا جائے اور اس طرح عدلیہ کی رہی سہی اختیارات اور آزادی کی پائمالی کی روک تھام کی جائے۔ نوٹیفکیشن کی عدم منسوخی کی صورت میں پشتونخواملی عوامی پارٹی اپنے عوام اور سیاسی جمہوری قوتوں کی تعاون اور مدد سے سیاسی جمہوری احتجاج کی راہ اپنانے میں حق بجانب ہوں گی جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت بلوچستان پر عائد ہوں گی۔

WhatsApp
Get Alert