شوگر کے مریضوں کے لیے خوشخبری، جدید اور مؤثر علاج دریافت

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)ٹائپ 2 شوگر کے مریضوں کے علاج اور روک تھام کے حوالے سے امید کی نئی کرن پیدا ہوئی ہے۔
نیچر کمیونیکیشنز میں شائع نئی تحقیق کے مطابق سائنسدانوں نے ایک ایسے جین کی نشاندہی کی ہے جو اس مرض کے پیدا ہونے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے، اور اس دریافت سے مستقبل میں مریضوں کے لیے مؤثر علاج کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق جین SMOC1 لبلبے میں موجود خلیات کو متاثر کرتا ہے جو خون میں شکر کی سطح کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اس جین کی سرگرمی کے باعث یہ خلیات انسولین کی بجائے گلوکاگون پیدا کرنے لگتے ہیں، جس سے خون میں شکر بڑھتی ہے اور مرض کی علامات شدت اختیار کر لیتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق انسولین پیدا کرنے والے بیٹا خلیات ٹائپ 2 شوگر کے مریضوں میں اپنی شناخت کھو کر الفا خلیات کی طرح کام کرنے لگتے ہیں۔ صحت مند افراد میں بیٹا اور الفا خلیات خون میں شکر کے توازن کو برقرار رکھتے ہیں، لیکن شوگر کے مریضوں میں یہ توازن بگڑ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں انسولین کی کمی اور گلوکاگون کی زیادتی پیدا ہو جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جینیاتی عمل کو سمجھنا ٹائپ 2 شوگر کے مؤثر علاج کے لیے سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے، اور مستقبل میں ایسے طریقہ علاج تیار کیے جا سکتے ہیں جو بیماری کی بنیادی وجوہات کو ہدف بنا کر مریضوں کی زندگی بہتر بنا سکیں۔
