کوئٹہ تا چمن شاہراہ بھتہ خوروں کے حوالے، سیکیورٹی فورسز کی ناک کے نیچے لوٹ مار جاری ہے: پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ تا چمن بین الاقوامی شاہراہ کو باقاعدہ طور پر مختلف مقامات پر بھتہ خور اور جرائم پیشہ مسلح عناصر کے حوالے کر دیا گیا ہے، جن کے لیے الگ الگ علاقے مخصوص کیے گئے ہیں۔ یہ تمام تر غیر قانونی سرگرمیاں حکومتی ایما اور بعض ریاستی اداروں کی آشیر باد سے جاری ہیں، کیونکہ علاقے میں ایف سی اور دیگر سیکیورٹی فورسز کی بھاری موجودگی کے باوجود دن دہاڑے گاڑیوں کو روکنا، تاجروں اور ڈرائیوروں سے بھتہ وصول کرنا، اور خواتین سے زیورات چھیننے جیسے انتہائی قبیح اور شرمناک واقعات بلا روک ٹوک رونما ہو رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تمام وارداتیں سیکیورٹی فورسز کی ناک کے نیچے ہو رہی ہیں، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ نہ تو ان کی روک تھام کی جا رہی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی سنجیدہ کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہو رہا ہے کہ ان مسلح گروہوں کو حکومت اور ریاستی اداروں کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے بالخصوص سید حمید کراس سے لے کر قلعہ عبداللہ اور چمن تک مختلف مقامات پر سرگرم بھتہ خور مافیا کی جانب سے منظم لوٹ مار کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ تا چمن شاہراہ نہ صرف ایک بین الاقوامی تجارتی گزرگاہ ہے بلکہ لاکھوں عوام کی روزمرہ آمد و رفت، تجارت اور معاشی سرگرمیوں کا واحد اور بنیادی ذریعہ بھی ہے، مگر بدقسمتی سے اس اہم شاہراہ کو بھتہ خور عناصر، جرائم پیشہ گروہوں اور نام نہاد چیکنگ کے نام پر قائم غیر قانونی رکاوٹوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ سید حمید کراس سے قلعہ عبداللہ اور چمن تک مختلف مقامات پر تاجروں، دکانداروں، ٹرانسپورٹروں، ڈرائیوروں اور نجی کمپنیوں کے اہلکاروں سے کھلے عام بھتہ وصول کیا جا رہا ہے، جبکہ صوبائی حکومت اور متعلقہ سیکیورٹی ادارے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بھتہ خوری، لوٹ مار اور مسلسل خوف و ہراس کے باعث ضلع چمن اور اس کے گردونواح میں اشیائے خوردونوش، ادویات اور دیگر ضروری سامان کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، جس سے عام شہریوں کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ کوئٹہ تا چمن اور چمن تا پشین کے درمیان چلنے والی مسافر گاڑیوں کو زبردستی روک کر کھڑا کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف مسافروں کو شدید اذیت اور مشکلات کا سامنا ہے بلکہ تجارتی اور معاشی سرگرمیاں بھی مکمل طور پر ٹھپ ہو چکی ہیں۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے صوبائی حکومت، محکمہ داخلہ اور متعلقہ سیکیورٹی اداروں کی اس سنگین صورتحال پر مکمل ناکامی، نااہلی اور غیر سنجیدگی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایف سی کے ناکوں اور چیک پوسٹوں پر نام نہاد چیکنگ کے باوجود بھتہ خور مافیا دندناتے پھر رہے ہیں تو یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یا تو ریاستی ادارے اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں ادا کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں، یا پھر دانستہ طور پر ان جرائم پیشہ عناصر کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ پریس ریلیز میں پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ کوئٹہ تا چمن شاہراہ پر بھتہ خور مافیا اور لوٹ مار میں ملوث تمام عناصر کے خلاف بلا امتیاز اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور عام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، اور شاہراہ کو ہر قسم کی غیر قانونی رکاوٹوں سے پاک کر کے محفوظ اور آزادانہ آمد و رفت بحال کی جائے۔ آخر میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے انتہائی واضح اور دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں نے فوری طور پر اس سنگین مسئلے کا عملی حل نہ نکالا تو پارٹی عوام کے ساتھ مل کر بھرپور، منظم اور سخت احتجاجی تحریک چلانے کا حق محفوظ رکھتی ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت اور سیکیورٹی اداروں پر عائد ہوگی۔

WhatsApp
Get Alert