ایران میں حکومت کیخلاف پرتشدد مظاہرے زور پکڑ گئے، انٹرنیٹ معطل، 45افراد ہلاک


ایران(قدرت روزنامہ)ایران میں حکومت کے خلاف پرتشدد مظاہرے زور پکڑ گئے، معاشی بحران کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج نے سیاسی روپ اختیار کرلیا، حکومت نے انٹرنیٹ سروس معطل کردی جبکہ پرتشدد مظاہروں کے دوران سکیورٹی اہلکاروں سمیت 45افراد ہلاک ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق ایران میں مظاہروں کا سلسلہ ملک کے 31 میں سے 27 صوبوں میں جاری ہے اور تاجروں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شہری مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہروں میں مصروف ہیں۔ مظاہرین نے ملک کے اہم شہروں کی شاہراہوں کو ٹائر جلا کر بلاک کردیا، جبکہ اس دوران پرتشدد واقعات سے جانی نقصان بھی ہوا۔
اس حوالے سے ایرانی میڈیا نے ہتھیاروں سے لیس شرپسندوں کی نشاندہی کی جو پولیس پر پتھراؤ اور براہِ راست فائرنگ میں بھی ملوث ہیں۔ حکومت مخالف احتجاج کو قابو کرنے اور مزید پھیلاؤ روکنے کیلئے ایرانی حکومت نے پولیس اور سکیورٹی اہلکارون کی اضافی نفری کو تعینات کردیا، جبکہ حکومت نے مظاہرین کو قابو میں کرنے کیلئے انٹرنیٹ سروس کو مکمل طور پر معطل کردیا۔
اس سے قبل بھی ایرانی حکام نے مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ کی معطلی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تھا، تاہم انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس کا ماننا ہے کہ تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ رواں برس ہونے والے مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ کو کس تناظر میں بند کیا گیا؟گزشتہ 12روز سے جاری احتجاج میں ایرانی کرنسی کی گراوٹ اور شدید مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے مطالبات میں شدت دیکھی گئی ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پیغام کے ذریعے احتجاج کے دوران مظاہرین کو قتل کرنے یا نقصان پہنچانے کے باعث ایران کو بھرپور اور سخت جواب دینے کی دھمکی دے چکے ہیں، جبکہ امریکا کا اتحادی اسرائیل بھی اس سے قبل ایران کو حملوں کا نشانہ بنا چکا ہے۔

WhatsApp
Get Alert