نائٹ کلب، شراب اور سگریٹ؟ دیپیکا، عالیہ اور شردھا کی وائرل تصاویر کا چونکا دینے والا سچ

ممبئی(قدرت روزنامہ)سوشل میڈیا پر بالی ووڈ کی معروف اداکاراؤں دیپیکا پڈوکون، عالیہ بھٹ اور شردھا کپور کی چند تصاویر تیزی سے وائرل ہوئیں جن میں انہیں ایک نائٹ کلب میں پارٹی کرتے، شراب پیتے اور سگریٹ نوشی کرتے دکھایا گیا۔ تصاویر میں تینوں اداکارائیں مختصر پارٹی لباس میں ملبوس اور نشے کی حالت میں نظر آ رہی تھیں جس کے باعث بہت سے صارفین نے انہیں حقیقی سمجھ لیا۔
فیکٹ چیک اور ڈیجیٹل تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ تمام تصاویر مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence – AI) کے ذریعے تیار کی گئی جعلی تصاویر ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
تصاویر کیسے وائرل ہوئیں؟
یہ تصاویر سب سے پہلے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر شیئر کی گئیں جہاں سے دیکھتے ہی دیکھتے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پھیل گئیں۔ بعض تصاویر میں دیپیکا پڈوکون کو سگریٹ پیتے اور دھوئیں کے چھلے بناتے دکھایا گیا، جبکہ شرادھا کپور شراب کا گلاس تھامے پوز دیتی نظر آئیں اور عالیہ بھٹ ان کے ساتھ مسکراتی ہوئی دکھائی دیں۔
ابتدائی طور پر کئی صارفین دھوکہ کھا گئے تاہم ماہرین نے تصاویر میں موجود تکنیکی خامیوں غیر فطری چہروں اور روشنی کے غیر حقیقی اثرات کی نشاندہی کی، جس سے ان کے جعلی ہونے کی تصدیق ہوئی۔
فیکٹ چیک رپورٹس کیا کہتی ہیں؟
معروف فیکٹ چیک ویب سائٹس نے ان تصاویر کو مکمل طور پر جعلی قرار دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق دیپیکا پڈوکون کی حالیہ 40ویں سالگرہ (5 جنوری 2026) کے موقع پر بھی ایسی کوئی پارٹی منعقد نہیں ہوئی جس میں یہ تینوں اداکارائیں ایک ساتھ شریک ہوں۔
فیکٹ چیک کے مطابق
دیپیکا پڈوکون نے اپنی سالگرہ فینز کے ساتھ میٹ اینڈ گریٹ تقریب میں منائی بعد ازاں وہ اپنے شوہر رنویر سنگھ کے ہمراہ نیویارک ویکیشن پر روانہ ہو گئیں جبکہ تینوں اداکاراؤں کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور فین پیجز پر ایسی کسی تصویر کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے
ماہرین کی وارننگ
ڈیجیٹل ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کے ذریعے جعلی تصاویر بنانا نہ صرف غلط معلومات پھیلانے کا سبب بنتا ہے بلکہ یہ شخصیات کی ساکھ، پرائیویسی اور ذہنی سکون کے لیے بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل جنوبی بھارتی اداکارہ سریلیلا سمیت کئی مشہور شخصیات بھی اے آئی سے تیار کردہ جعلی مواد کا شکار ہو چکی ہیں۔
ابھی تک دیپیکا پڈوکون، عالیہ بھٹ یا شرادھا کپور کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی جھوٹی معلومات کے خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔ صارفین سے اپیل کی جاتی ہے کہ کسی بھی وائرل تصویر یا خبر کو شیئر کرنے سے قبل اس کی تصدیق ضرور کریں تاکہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
