بلوچستان میں چینی 200 روپے کلو، امپورٹڈ چینی کے نام پر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ، مقامی چینی پر پابندی سے بحران پیدا ہو گیا: مرکزی انجمن تاجران


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں چینی کی قلت اور نرخ بڑھنے سے غریب عوام متاثر ہورہے ہیں وفاقی و صوبائی حکومتیں اس سلسلے میں اقدامات کریں اور بلوچستان چینی ڈیلرز ایسوسی ایشن سے وابستہ دکانداروں کو جلد این او سی اور چینی فراہم کرنے کے اقدامات کریں اس سلسلے میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ملاقات کرکے اپنے مطالبات پیش کریں گے بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ کوئٹہ شہر کے سڑکوں کو توسیع دی جارہی ہے اور ترقیاتی کاموں کا جال بچھادیا گیا ہے جس کا کریڈٹ وزیراعلیٰ بلوچستان کو جاتا ہے ساتھ میں امن وامان کی بہتری میں اہم کردار سیکورٹی اداروں اور حکومت بلوچستان کا ہے ‘یہ بات انہوں نے آل بلوچستان شوگر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری سیف اللہ لانگو کے ہمراہ سرکاری ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے کہی‘ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں کوئی شوگرمل نہیں ہے صوبے میں چینی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے تاجر پنجاب اور سندھ میں واقع شوگرملز سے چینی لاکر بلوچستان میں عوام کو فروخت کرتے ہیں لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے بلوچستان کے تاجروں کو اس بات پر مجبورکیا جارہا ہے کہ وہ بیرون ملک سے منگوائی جانے والی چینی فروخت کریں اور پاکستان میں تیارہونے والی چینی کی فروخت پرپابندی عائد کردی گئی ہے جس سے عوام کو مہنگے داموں چینی مل رہی ہے انہو ں نے کہاکہ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (TCP) کی جانب سے چینی کی درآمد کے بعد پالیسی میں جو تبدیلی کی گئی ہے اس سے سنگین مشکلات پیدا ہو گئی ہیں اس وقت محکمہ صنعت کی جانب سے شوگر ڈیلرز کو صرف درآمد شدہ TCP چینی کی ترسیل اور فروخت کی ہدایات دی جا رہی ہیں جبکہ مقامی پاکستانی شوگر ملز سے چینی کی ترسیل کے لیے این او سی کا اجرا ستمبر 2025 سے بند ہے اس صورتحال نے ڈیلرز کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ صرف مہنگی درآمد شدہ چینی کا کاروبار کریں اسوقت درآمد شدہ ٹی سی پی چینی کی قیمت تقریباً175روپے فی کلو جبکہ پاکستان میں تیارہونے والی چینی کی ایکس مل قیمت تقریباً140روپے فی کلو ہے جس سے چینی کی قیمت میں 40روپے فی کلو کا فرق آرہا ہے اس طرح  پاکستانی اوردرآمد شدہ چینی کی فی بوری قیمت میں 2000روپے کا فرق ہے اورصوبے کے عوام کو فی کلو چینی 200روپے کلو مل رہی ہے  اور فی ٹرک چینی میں 17لاکھ روپے کا فرق آتا ہے اور فی ٹرک میں 800بوری چینی آتی ہے انہوں نے کہاکہ بیرون ملک سے منگوائی جانے والی میں مٹھاس انتہائی کم (باریک)ہونے کی وجہ سے عوام اس چینی کونہیں خریدتے اورکراچی سے چینی کوئٹہ اوربلوچستان کے دیگر علاقوں تک لانے میں کرایہ بھی زیادہ پڑتا ہے جس کا براہ راست اثر تاجروں اور عوام کی جیب پر پڑتا ہے اور سندھ کی شوگر ملز سے چینی بلوچستان لانے میں کرایہ میں واضح فرق پڑتا ہے پاکستانی چینی میں مٹھاس زیادہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان کے عوام زیادہ ترپاکستانی چینی خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں انہوں نے کہاکہ شوگر ڈیلرز کو مہنگی چینی خریدنے کے باعث شدید مالی دباؤ اور کاروباری مشکلات کا سامنا ہے بلوچستان کے عوام جو پہلے ہی معاشی طور پر مشکلات کا شکار ہیں کو چینی انتہائی مہنگی قیمت پر خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے جو عام آدمی کے گھریلو بجٹ پر براہِ راست بوجھ ہے حکومت کی جانب سے غیر ملکی چینی فروخت کرنے کی پالیسی عوامی مفاد کے خلاف ہے اس کے نتیجے میں بلوچستان کے عوام سستی اور مقامی طور پر تیار کردہ چینی سے محروم ہو گئے ہیں اور مہنگی درآمد شدہ چینی کی اجارہ داری قائم ہو گئی ہے انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے تاجروں نے اپنے کوٹے کی درآمد شدہ چینی خرید کر مارکیٹ میں فروخت کردی ہے اور کراچی پورٹ پر پڑی ہوئی 50سے 60 ہزار ٹن درآمد شدہ چینی بھی بلوچستان کے شوگرز ڈیلرز کو خریدنے پر مجبور کیا جارہا ہے جس کی مرکزی انجمن تاجران بلوچستان اور بلوچستان شوگرز ڈیلرز ایسوسی ایشن مذمت کرتی ہے۔

WhatsApp
Get Alert