بلوچستان میں بدامنی اور حادثات ، فائرنگ اور ٹریفک حادثات میں 4 افراد جاں بحق، 12 زخمی، ، نوجوان کی لاش برآمد

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ ) بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پیش آنے والے ٹریفک حادثات، فائرنگ اور دیگر ناخوشگوار واقعات میں مجموعی طور پر 4 افراد جاں بحق جبکہ 12 زخمی ہوگئے، ڈکیتی کی بڑی واردات میں پروفیسر لٹ گئے۔ تفصیلات کے مطابق پنجگور کے علاقے تسپ میں مسلح افراد کی فائرنگ سے معروف اسکول ٹیچر حامد علی کا بیٹا بالاچ جاں بحق ہوگیا جبکہ دالبندین کے قریب 22 سالہ نوجوان عتیق اللہ کی سر میں گولی لگی لاش برآمد ہوئی۔ ٹریفک حادثات میں دکی کے علاقے مانزئی میں پک اپ اور ٹریکٹر ٹرالی کے تصادم میں ایک خاتون جاں بحق اور 4 افراد زخمی ہوگئے، سوراب میں بھی تیز رفتار گاڑی الٹنے سے قلعہ سیف اللہ کا رہائشی عبدالباعث جاں بحق اور ایک شخص زخمی ہوا۔ دوسری جانب زیارت کے علاقے کلی منڑہ میں زمین کے تنازع پر دو گروپوں میں فائرنگ سے 4 افراد زخمی ہوگئے جن میں سے 3 کی حالت تشویشناک ہے، نصیر آباد کے ڈومکی محلہ میں بچوں کی لڑائی پر بڑوں کے تصادم میں فائرنگ سے دو افراد راجہ خان اور محمد یونس زخمی ہوگئے۔ ادھر تربت کے علاقے جوسک میں کچرے کے ڈھیر میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے کمسن بچہ عادل شدید زخمی ہوگیا۔ دریں اثنا صحبت پور کے علاقے گل ٹاؤن میں ڈکیتی کی بڑی واردات میں مسلح ڈاکو ماہر تعلیم پروفیسر اکرام اللہ کھوسو کو یرغمال بنا کر لاکھوں روپے نقدی، 15 تولہ سونا اور دیگر قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہوگئے۔ متعلقہ انتظامیہ نے تمام واقعات کے مقدمات درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
