پنجاب کے بعد سندھ میں بھی کنفرم ہوگیا کہ عمران خان ختم شد،غریدہ فاروقی

لاہور (قدرت روزنامہ)سینئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار غریدہ فاروقی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے پیغام میں پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی حیثیت اور عوامی مقبولیت پر سخت طنز کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے بعد اب سندھ میں بھی یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ عمران خان ختم شد۔
غریدہ فاروقی نے اپنے پیغام میں لکھا کہ اب محض باتوں اور نعروں کا وقت ختم ہو چکا ہے، زمینی حقائق سب کے سامنے آ چکے ہیں ان کے مطابق بڑے بڑے دعوؤں کے باوجود عملی طور پر چند سو یا زیادہ سے زیادہ چند ہزار افراد کی موجودگی، سترہ سے اٹھارہ کروڑ کی آبادی والے صوبوں میں کسی بھی طرح نوے فیصد مقبولیت کے دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتی۔
ہاں جی تو پنجاب کے بعد سندھ میں بھی کنفرم ہو گیا کہ عمران خان ختم شد ہے۔۔۔ ہن او گلاں نئیں رئیاں ۔۔۔ بس پانچ چھ سو ہزار دو ہزار بندہ پنجاب اور سندھ کے 17/18 کروڑ لوگوں میں سے ۔۔۔۔ اور دعوی نوے فیصد مقبولیت کا ۔۔۔
IT'S OVER!
— Gharidah Farooqi (T.I.) (@GFarooqi) January 11, 2026
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ “ہن او گلاں نئیں رہیاں”، یعنی اب باتیں نہیں بلکہ حقیقت بولتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی عوامی حمایت اس سطح پر موجود ہوتی جس کا بار بار دعویٰ کیا جاتا ہے تو بڑے شہروں اور اہم سیاسی مراکز میں عوام کی بھرپور شرکت نظر آتی۔
غریدہ فاروقی کا یہ بیان حالیہ سیاسی سرگرمیوں اور جلسوں میں کم حاضری کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس نے پی ٹی آئی کی تنظیمی طاقت اور عوامی رابطہ مہم پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر مقبولیت اور زمینی سیاست میں طاقت کے درمیان فرق اب واضح ہوتا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی حامی حلقوں کی جانب سے ایسے بیانات کو جانبدارانہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ناقدین کا مؤقف ہے کہ سیاست میں فیصلے نعروں سے نہیں بلکہ عوامی شرکت اور عملی حمایت سے ہوتے ہیں۔
غریدہ فاروقی کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور یہ سوال ایک بار پھر زیرِ بحث آ گیا ہے کہ آیا پی ٹی آئی واقعی عوامی اکثریت کی نمائندہ جماعت ہے یا محض دعوؤں تک محدود ہو چکی ہے۔
