تاجروں اور محنت کشوں کا معاشی قتل عام بند کیا جائے، بارڈرز کی بندش اور چھاپے برداشت نہیں کریں گے: جمعیت علماء اسلام


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے ترجمان نے کہا ہے کہ تاجروں کے گوداموں پر روزانہ کی بنیاد پر چھاپے، بلاجواز کارروائیاں، بارڈر بندش اور روزگار کے تمام راستوں کی مسلسل مسدودی درحقیقت صوبے کے تاجروں اور محنت کش طبقے کا کھلا معاشی قتل ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی کی چکی میں پس رہے ہیں ایسے میں دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ایک کٹھن مرحلہ بن چکا ہے، مگر افسوس کہ حکومتی اقدامات عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب تجارت، بارڈر اور روزگار کے تمام ذرائع بند کر دیے جائیں تو عوام جائے تو کہاں جائے؟ترجمان نے واضح کیا کہ تاجروں کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر کی جانے والی ان کارروائیوں پر خاموش رہنا ممکن نہیں۔ پہلے ہی تاجر طبقہ شدید دباؤ کے باعث اپنی تجارت سمیٹنے پر مجبور ہو چکا ہے، جو صوبے کی معاشی بنیادوں کیلئے نہایت خطرناک علامت ہے۔ بلوچستان اس قسم کے غیر سنجیدہ اور سخت گیر اقدامات کا ہرگز متحمل نہیں ہو سکتا۔جمعیت علماء اسلام، بحیثیت ایک عوامی، نظریاتی اور ذمہ دار جماعت، اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے فوری طور پر پالیسیوں کا ازسرِنو جائزہ لے۔ تمام متعلقہ حکام بالخصوص نچلی سطح پر زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے عملی اور دیرپا حل کی جانب قدم بڑھائیں، تاکہ تاجر، محنت کش اور عام شہری سکھ کا سانس لے سکیں۔ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر عوام کے روزگار، تجارت اور معاشی بقا کے مسائل کو نظر انداز کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج کی ذمہ داری براہِ راست حکمرانوں پر عائد ہوگی۔ جمعیت علماء اسلام ہر فورم پر عوام کے حق میں آواز بلند کرتی رہے گی اور کسی صورت عوام دشمن پالیسیوں کو قبول نہیں کرے گی

WhatsApp
Get Alert