نصیر آباد میں کرپشن کا بڑا سکینڈل بے نقاب، کاغذوں میں ڈیم بنا کر 4 کروڑ ہڑپ، دو افسران گرفتار


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) صوبہ بلوچستان میں ترقیاتی فنڈز کے بے جا اخراجات اور بدعنوانی کے خلاف جاری صفائی مہم کے تحت اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان کو ایک بڑی کامیابی ملی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل اینٹی کر پشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان کی ہدایت پر، ڈپٹی ڈائریکٹر (انویسٹی گیشن)اینٹی کر پشن نصیر آباد کی نگرانی میں اسٹنٹ ڈائریکٹر (انویسٹی گیشن)کی کارروائی سے ضلع نصیر آباد کے گاں شبیر بھنگر ڈیرہ مراد جمالی میں پروٹیکشن بند اور 4 تالاب کی نام نہاد ترقیاتی اسکیم میں بڑے پیمانے پر غبن کا انکشاف ہوا ہے۔ کارروائی کے نتیجے میں محکمہ آن فارم واٹر مینجمنٹ کے دو اہم افسران کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق، اس اسکیم میں کوئی زمینی کام سر انجام دیے بغیر ہی ٹھیکیدار کو کروڑوں روپے کی ادائیگی کی گئی، جس سے سرکاری خزانے کو تقریبا 4 کروڑ روپے کا بھاری نقصان پہنچا۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسکیم کا کوئی وجود ہی نہیں تھا اور کاغذی کارروائی کے ذریعے بڑی رقم ہڑپ کر لی گئی۔گرفتاری کی کارروائی ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے کی گئی۔ سابق ڈپٹی ڈائریکٹر محمد سعید کھوسہ اور سابق سب انجینئر علی مردان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتار ملزمان کو قانونی کارروائی کے بعد عدالت میں پیش کیا جائیگا ۔ باقی ملوث افراد کی شناخت کے بعد ان کے خلاف بھی فوری قانونی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔اس اسکیم کا مقصد دیہی علاقے میں پانی کے تحفظ اور ذخیرہ کے لیے بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنا تھا، لیکن اس کے بجائے چند افراد کی ذاتی تجوریاں بھری گئیں۔ اینٹی کرپشن ٹیم نے مقامی کسانوں اور زمین کے ریکارڈز کے گہرائی سے جائزے کے بعد یہ بڑا اسکینڈل بے نقاب کیا ہے۔ اس واقعے سے سرکاری ترقیاتی بجٹ کے مثر استعمال اور نگرانی کے نظام میں خامیوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔

WhatsApp
Get Alert