جسٹس ایوب ترین کی مستقلی روکنے پر بلوچستان بار کونسل کا ردعمل، جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ تعصب پر مبنی ہے، کل بلوچستان بھر میں عدالتی ہڑتال کا اعلان

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین جارین دشتی ایڈووکیٹ، چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی ایاز خان مندوخیل اور ممبران ایگزیکٹو کمیٹی محمد افضل حریفال، نادر علی چھلگری، نجیب اللہ خان کاکڑ اور راحب خان بلیدی نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں جوڈیشل کمیشن کے حالیہ فیصلے پر شدید برہمی اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک نہایت اہل، دیانت دار اور پیشہ ورانہ جج کی توثیق کو محض اس بنیاد پر روکا گیا ہے کہ ان کے بھائی کا تعلق پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے ہے، جو کہ کھلی جانبداری، تعصب اور امتیازی سلوک ہے۔ بلوچستان بار کونسل نے باور کرایا کہ جسٹس ایوب ترین اپنی دیانت داری، غیر جانبداری، پیشہ ورانہ مہارت اور عدالتی وقار کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کی بددیانتی یا نااہلی کا کوئی الزام نہیں ہے۔
کسی عزیز کی سیاسی وابستگی کی بنیاد پر اتنے قابل جج کو نشانہ بنانا نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے۔ بار کونسل نے کہا کہ یہ عمل کسی جج کی اہلیت کو اس کے خاندان سے جوڑنا “اجتماعی ذمہ داری” کے غیر منصفانہ تصور کو فروغ دینے کے مترادف ہے جس کی ہمارے آئینی نظام میں کوئی گنجائش نہیں۔ یہ طرز عمل عوام کی عدلیہ پر اعتماد کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔
بلوچستان بار کونسل نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ وہ عدلیہ کی آزادی اور وقار پر سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اس جانبدارانہ طرز عمل کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کریں گے۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ جوڈیشل کمیشن اپنے فیصلے پر فوری نظر ثانی کرے۔ بلوچستان بار کونسل نے جوڈیشل کمیشن کے اس سیاہ فیصلے کے خلاف مورخہ 14 جنوری 2026 کو تمام بلوچستان میں عدالتی ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔
