حکومت بلوچستان کی جانب سے نافذ دفعہ 144 کے باوجود مبینہ طور پر ممنوعہ اشیاء سے لوڈ مسافر کوچ مالکان نے کسٹم کے خلاف گڈانی موڑ سے قومی شاہراہ بلاک کردی

حب (قدرت روزنامہ) حکومت بلوچستان کی جانب سے نافذ دفعہ 144 کے باوجود مبینہ طور پر ممنوعہ اشیاء سے لوڈ مسافر کوچ مالکان نے کسٹم کے خلاف گڈانی موڑ سے قومی شاہراہ بلاک کردی12 گھنٹے سے زائد شاہراہ بلاک ہونے سے عام شہری سمیت ایمبولینس بھی پھنس کر رہ گئے اس سلسلے میں ہفتہ اور اتوار کے درمیانی شب کسٹم حکام کی جانب سے مبینہ طور پر ممنوعہ اشیائ سے لوڈ مسافر کوچ کو تحویل میں لینے کے خلاف مسافر کوچ مالکان نے گڈانی موڑ کے مقام پر کوچز کھڑی کرکے کراچی کوئٹہ قومی شاہراہ کو ہرقسم کے ٹریفک کے لیے بند کردیا جو تقریبا 12گھنٹے سے زائد بند ہونے کی وجہ سے عام شہری سمیت مریض لیجانے والے ایمبولینس بھی پھنس کر رہ گئے ہڑتال میں پھنسے عام ڈرائیوروں کا کہنا تھا کہ یہ اندرون بلوچستان سے کراچی چلنے والے مسافر کوچوں میں مبینہ طور پر ممنوعہ اشیاء کی اسمگلنگ ہوتی ہے اور مسافر کوچ مالکان اور کسٹم حکام کی مبینہ لین دین کے معاملے پر آئے روز نوک جھوک ہوتی رہتی ہے جس کے نتیجے میں ہر دوسرے تیسرے دن کوچ مالکان قومی شاہراہ کو بلاک کر دیتے ہیں جس سے عام لوگوں کو شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ اس وقت حکومت بلوچستان کی جانب سے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ العمل ہے اسکے باوجود کوچ مالکان کا قومی شاہراہ کو بلاک کرنا صوبائی حکومت کے رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے دوسری جانب عام شہریوں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر کسٹم حکام کی مبینہ بھتہ خوری اور مسافر کوچوں میں ممنوعہ اشیاء کی اسمگلنگ کے خلاف جامعہ قانونی کاروائی کرکے آئے روز قومی شاہراہ بلاک کرنے والوں کے خلاف قانونی کرے تاکہ عام شہریوں کو ان سے چھٹکارا ملے جبکہ کسٹم کے خلاف قومی شاہراہ بلاک کرنے والے 12گھنٹے بعد خودبخود منتشر ہوگئے اور ٹریفک بحال ہوگیا
