تحریک تحفظِ آئین پاکستان کا 8 فروری کو یومِ سیاہ اور ہڑتال کا اعلان: تیراہ آپریشن اور قیدیوں کی سزا پر تشویش، نئے انتخابات اور عمران خان کی رہائی کا مطالبہ

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)تحریک تحفظِ آئین پاکستان کا اجلاس آج اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں اتحاد کے وائس چئیرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس، چئیرمین تحریک انصاف بیریسٹر گوہر، سابق گورنر زبیر عمر، سیکرٹری جنرل تحریک تحفظِ آئین اسد قیصر ، حقوقِ خلق پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عمار علی جان، وائس چئیرمین مصطفی نواز کھوکھر ، ترجمان اتحاد اخونزادہ حسین یوسفزئی اور خالد چوہدری ایڈووکیٹ نے شرکت کی۔
اجلاس میں اپوزیشن نے ۸ فروری کو بین القوامی سطح پر یوم سیاہ منانے اور ہڑتال پر مستقبل کی حکمت عملی کے حوالہ سے تفصیلی مشاورت کی اور قرار دیا کہ ۸ فروری پاکستانی قوم کی اجتماعی تضحیک کا دِن ہے۔
اِس دن ملک میں بسنے والے ہر شہری ، مرد و عورت، مسلم و غیر مسلم ، کسان و مزدور ، کاروباری و تنخواہ دار اور طلباء و صحافی غرض کہ عوام کے بنیادی اختیار ، حکمران چننے کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا، ۸ فروری کو اِس مُلک کے غیور عوام کو بے اختیار اور اُن کی مملکت خداد پاکستان میں حیثیت کو بے معنی کر دیا گیا۔
اجلاس نے ۸ فروری کو ہڑتال کے حوالہ سے اتحاد میں شامل جماعتوں اور اُن کی تنظیموں کے لیئے ہدایت مرتب کی۔ اجلاس نے ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ایڈوکیٹ ہادی چٹھہ کو دی گئی سزا پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس نے اُن کو دی گئی سزا کو اظہار آزادی رائے اور فئیر ٹرائل کے آئینی حقوق پر ایک کاری ضرب قرار دیا۔
اجلاس نے یہ بھی قرار دیا کہ تیراہ ، خیبر ایجنسی میں ایک انسانی المیہ جنم لے رہا ہے اور آپریشن کے نام پر لاکھوں لوگوں کو سخت موسم میں نقل مکانی پر مجبور کرنا ایک سانحہ ہے۔ اجلاس نے کسی بھی صورت صوبائی اسمبلی کی پاس کی گئی قراردادوں، قومی جرگہ میں کی گئی فیصلوں سے انحراف کو صوبائی اختیارات اور وفاقیت کے تصور کے منافی قرار دیا۔
اجلاس نے عوام اور پارلیمان کو اعتماد میں لئیے بغیر حکومت پاکستان کے بورڈ آف پیس میں شمولیت کے فیصلہ کی بھر پور مذمت کی۔ حکومت کسی ایسے بورڈ میں کیسے شمولیت کر سکتی ہے جو دہائیوں سے قائم اقوام متحدہ کے متوازی ایک نیا نظام قائم کرنے کی واظح کوشش ہو اور جِس میں فلسطینی ہی شامل نہ ہوں؟۔
اجلاس نے مکمل طور پر اِس استعماری حل کو یکطرفہ طور پر فلسطینی عوام پر مسلط کرنے کو مسترد کر دیا۔ اجلاس میں شرکاء نے اُصولی طور پر اس بات پر اتفاق کیا کہ ملک کو درپیش سیاسی اور معاشی بحران ، امن او امان اور گورننس کے فقدان سے نکالنے اور عوام میں مایوسی کے خاتمہ کے لئیے ایک دفعہ پھر فی الفور نئے انتخابات اور سیاسی قیدیوں بشمول عمران خان کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔
