رمضان سے قبل ملازمین کے لئے بڑی خوشخبری

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)اسلام آباد ہائی کورٹ نے خصوصی عدالتوں اور مختلف ٹربیونلز میں کام کرنے والے ملازمین کے جوڈیشل اور یوٹیلیٹی الاؤنسز روکنے سے متعلق اہم حکم جاری کرتے ہوئے اکاؤنٹنٹ جنرل آفس اور وزارتِ خزانہ کے احکامات کو معطل کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے متاثرہ ملازمین کو عارضی ریلیف مل گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے اس معاملے پر دو صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کیا، جس میں 5 اور 15 ستمبر 2025 کو جاری کیے گئے احکامات کو معطل کرنے کا اعلان کیا گیا۔ عدالت نے وفاقی حکومت اور وزارتِ خزانہ کو اس معاملے پر جواب جمع کرانے کے لیے نوٹسز جاری کیے ہیں، جبکہ کنٹرولر جنرل اکاؤنٹس اور اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان کو بھی نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔ عدالت نے تمام فریقین کو ہدایت کی ہے کہ وہ دو ہفتوں کے اندر اپنی آبزرویشنز اور تبصرے عدالت میں جمع کرائیں۔
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کی جانب سے وکیل محمد آصف گجر عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ خصوصی عدالتوں اور ٹربیونلز کے ملازمین کے الاؤنسز اچانک روک دیے گئے ہیں، جس سے ملازمین کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اکاؤنٹنٹ جنرل آفس کے حکم کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے والے ملازمین کو تو الاؤنسز کی ادائیگی جاری رکھی گئی، تاہم جو ملازمین عدالت نہیں گئے، ان کے جوڈیشل اور یوٹیلیٹی الاؤنسز روک دیے گئے۔
حکم نامے میں مزید بتایا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے ملتان اور بہاولپور بینچ پہلے ہی اکاؤنٹنٹ جنرل آفس کے اسی نوعیت کے احکامات کو معطل کر چکے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس کیس کی باقاعدہ سماعت 9 فروری کو مقرر کر دی ہے۔
