گرینڈ الائنس بلوچستان کا یوم سیاہ، سرکاری دفاتر کو تالے لگا کر شدید احتجاج، گرفتار ملازمین کی فوری رہائی کا مطالبہ

(ڈیلی قدرت کوئٹہ)گرینڈ الائنس بلوچستان نے اپنے مطالبات کے حق میں دوسرے مرحلے میں احتجاج کرتے ہوئے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں یوم سیاہ منایاگیااور سرکاری دفاتر کو تالے لگا کر ملازمین کو دفتر میں جانے نہیں دیا واضح رہے کہ گرینڈ الائنس نے ڈی آر اے ودیگر مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں میں پولیس کی جانب سے ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے عہدیداروں سمیت دیگر ممبران کو گرفتار کرکے مختلف جیلوں میں منتقل کردیاگیا بدھ کے روز دوسرے مرحلے میں گرینڈ الائنس نے احتجاج کو وسعت دیتے ہوئے تمام سرکاری دفاتر بند کردئیے اور اس سلسلے میں مختلف کمیٹیاں بنا کر کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں قائم سرکاری دفاترز کا دورہ کرکے وہاں پر کھلے ہوئے دفاتر کو بندکرکے تالے لگادئیے جبکہ دفتر میں موجود ملازمین کو باہر نکال دیا اس موقع پر کمیٹی میں شامل ممبران نے کہا کہ ڈی آر اے ودیگر مطالبات ہمارا بنیادی اور آئینی حق ہے جس پر حکومت نے کئی دفعہ مطالبات حل کرنے کی یقین دہانی کرائی لیکن نہ جانے وہ کونسی وجوہا ت ہے جو صوبائی حکومت ہمارے مطالبات تسلیم کرنے کی بجائے سخت اور ناروا رویہ اختیار کرتے ہوئے ہمارے پرامن احتجاجو ں میں نہ صرف رکاوٹیں کیے بلکہ ہمارے احتجاج پر شیلنگ و لاٹھی جارچ کی گئی جبکہ سخت سردی میں ہمارے عہدیداران و ودیگرممبران کو گرفتار کرکے مختلف جیلوں میں بند کردئیے جہاں پر کوئی سہولیات حتیٰ کہ ملاقات پر بھی پابندی لگادی ہے اسی طرح ہمارے گرینڈ الائنس کے جو مرکزی عہدیدار تھے ان کو مچھ جیل منتقل کردئیے جو افسوسناک ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ہم دہشت گرد ہے حکومت پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جتنا سختی کرینگے اتنا ہمارے حوصلے بلند ہونگے اور ہم کسی بھی صورت اپنے مطالبات سے دستبردار نہیں ہونگے حکومت حالات خراب کرنے کی بجائے ہمارے مطالبات تسلیم اور تمام گرفتار ملازمین کو رہا کیا جائے نہ ہونے کی صورت میں سخت احتجاج کرینگے۔
