بی ایل اے ‘فتنہ الہدوستان’ کا گروپ ہے، اختر مینگل انڈین ڈیتھ سکواڈ کے سربراہ اور فساد کے بینیفشری ہیں، میر شفیق الرحمان مینگل

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) جھالاوان عوامی پینل کے سربراہ اور قبائلی رہنما میر شفیق الرحمان مینگل نے کہا ہے کہ بی ایل اے فتنہ الہدوستان کا ایک گروپ ہے۔ جس نے میرے بھائی کو قتل کیا اور ذمہ داری قبول کی۔ہر گروہ کے پیچھے RAW فنڈڈ سردار ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو انگریزوں کے کتے نہلاتے تھے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صحافی حسن ایوب خان کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا ۔ میر شفیق الرحمن مینگل نے کہا کہ اسلام آباد میں جو حکومت ہے ان کا رخ درست سمت میں ہے اور وہ جن کی وجہ سے ہے وہ دنیا کو پتا ہے۔جب تین سال پہلے انہوں نے منصب سنبھالا اور وہ گوادر آئے تو ان کی تقریر شہداء کی فیملی کیلئے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا تھی۔ بس ایک مسئلہ ہے کہ اسلام آباد میں فیصلہ سازوں کے جو قریب ہیں ان کو گراونڈ کی حقیقت کا اندازہ نہیں ہے۔ میر شفیق الرحمان مینگل نے کہا کہ اختر مینگل کو پی ٹی آئی کے دور میں اربوں کے فنڈز ملے ریاست کا پیسہ ان کے اور دہشتگردوں کے پیٹ میں جاتا ہے یہ دہشتگرد تنظیمیں چلاتا ہے اور پھر ریاست کو بلیک میل کرتا ہے۔ جنرل مشرف نے 1999 میں آنے کے بعد جو احتساب کا نعرہ لگایا تو ہمارے بلوچستان میں سکولز اور ہسپتالوں میں حاضری 100 فیصد ہو گئی تھی۔اس وقت بھی فیلڈ مارشل، وزیر اعظم اور وزیر اعلی تعلیم صحت کے شعبے میں سر پر کفن پہن کر کام کر رہے ہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان میں تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات کئے ہیں۔شہداء کے بچوں کو سکالر شپ دی گئی ہے۔مگر 1973 میں ایک سب نیشنلسٹ وزیر اعلی آیا جس نے ڈھول بجا بجا کر نسلی تعصب پھیلایا اور کہا پنجابیوں کو نکالو، اس کی وجہ سے ہم سو سال پیچھے چلے گئے۔ اختر مینگل ایک بہروپیا ہے۔ان کام ہے آگ لگا کر فائدہ لینا، مسنگ پرسنز کا راگ الاپ کر لوگوں کو پہاڑوں پر چڑھا کر دہشتگرد بنا کر پھر یہ مظلومیت کا کارڈ کھیلتا ہے۔اختر مینگل اس فساد کا بینفشری ہے۔ اختر مینگل انڈین ڈیتھ سکواڈ کا سربراہ ہے۔بلوچستان کا اصل مسئلہ ہی یہ ہے کہ پاکستان کو گالی دینے والے، جھنڈا جلانے والے، پاکستان کا نام لینے والے رہبروں کو قتل کرنے والے لوگوں کے ساتھ ہمیشہ نرمی برتی گئی ہے ۔
