ریاستی پالیسیوں نے پشتون عوام کو ہجرت پر مجبور کر دیا، خوشحال خان کاکڑ کا حیدرآباد جلسے سے خطاب


حیدرآباد ( ڈیلی قدرت نیوز )پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ ملک میں استعماری حکمرانوں کے خلاف محکوم اقوام—پشتون، بلوچ، سندھی اور سرائیکی—کو متحد و منظم ہو کر جدوجہد کرنی ہوگی، اور اس کے لیے ہمیں ایک مؤثر اتحاد کی اشد ضرورت ہے۔
پشتون عوام آج لاکھوں کی تعداد میں دیارِ غیر میں محنت و مزدوری کرنے پر مجبور ہیں، جس کی بنیادی وجہ پشتونخوا وطن پر ریاست کی جانب سے مسلط دہشت گردی اور ہمارے وسائل پر ناروا قبضہ ہے۔
علی وزیر کو ناکردہ گناہوں میں مسلسل سندھ میں پابندِ سلاسل رکھا گیا ہے تاکہ پشتون اور سندھی عوام و اقوام کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کی جا سکیں۔ آج کے اس جلسۂ عام کے توسط سے سندھ کی سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ علی وزیر کی رہائی کے لیے سب مل کر آواز بلند کریں اور مشترکہ احتجاج کریں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد، ہالہ ناکہ میں پشتونخوا نیپ کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک بڑے جلسۂ عام سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔
جلسۂ عام سے پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل خورشید کاکا جی، جنوبی پشتونخوا کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، مرکزی سیکریٹری اللہ نور خان، عوامی تحریک کے مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کاتیار، سندھ ترقی پسند پارٹی کے رہنما جان محمد جونیجو، پارٹی سندھ کے صوبائی صدر سید محمد صدیق آغا، پشتونخوا نیپ سندھ کے صوبائی سیکریٹری محمد شفیع ترین، پشتونخوا نیپ حیدرآباد کے ضلعی سیکریٹری سید جاوید آغا اور آل ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر نواب خان نے خطاب کیا۔
اسٹیج سیکریٹری کے فرائض عبدالخالق کاکڑ نے انجام دیے، جبکہ قراردادیں نظام خان نے پیش کیں اور تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت قاری شفیع نے حاصل کی۔
اس سے قبل جب پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ اور دیگر قائدین جلسہ گاہ پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
خوشحال خان کاکڑ نے کامیاب جلسۂ عام پر حیدرآباد پارٹی ایگزیکٹوز اور کارکنوں کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ غیور پشتون عوام نے ہمیشہ اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیا ہے، جس کا یہ جلسۂ عام واضح گواہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہم سندھ کے تاریخی شہر حیدرآباد میں اپنے عوام سے مخاطب ہیں، اور ہمارے اس جلسے میں سندھ کی وطن دوست اور جمہوری سیاسی جماعتوں اور مختلف انجمنوں کے نمائندے شریک ہیں، جن کے ہم بے حد شکر گزار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے سندھی بھائی بخوبی سمجھتے ہیں کہ پشتون کیوں اپنی سرزمین اور جنت نظیر وطن پشتونخوا سے سندھ سمیت پنجاب اور عرب ممالک میں بدحالی اور سخت محنت مزدوری پر مجبور ہیں، کیونکہ پنجاب کے استعماری حکمرانوں نے پشتونخوا وطن کو گزشتہ نصف صدی سے دہشت گردوں کے حوالے کر کے آگ اور خون میں جھونک دیا ہے، جس کے سبب پشتونوں کو اپنی سرزمین سے ہجرت کرنا پڑی۔
انہوں نے کہا کہ ہماری حالت اس حد تک خراب ہو چکی ہے کہ ہمارے لوگ نہ تو اپنی غمی میں اور نہ ہی کسی خوشی کی تقریب میں شرکت کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ اس بدحالی کی سطح تک پہنچ چکے ہیں کہ آنے جانے کے لیے کرایہ تک ادا نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں آباد پشتون عوام، سندھ کی قومی تحریکوں اور سندھ دھرتی سے محبت کا اظہار کریں، اور یہی توقع ہم سندھ کے عوام سے بھی رکھتے ہیں کہ وہ بھی پشتونخوا وطن کی قومی اور ملی نجات کی تحریکوں کا ساتھ دیں گے، کیونکہ یہی راستہ ہماری قومی خودمختاری کا راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ انگریزی استعمار سے لے کر آج تک ہمارے اکابرین نے جمہوریت اور سماجی عدل و انصاف کے لیے بیش بہا قربانیاں دی ہیں، اور ہم اس ملک کے برابر شہری ہونے کے ناطے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ سینیٹ کو بااختیار بنایا جائے، مالیاتی بل سینیٹ سے منظور ہوں، اور ہماری قومی زبانوں کا احترام کیا جائے، کیونکہ سینیٹ ہاؤس آف فیڈریشن ہے جو قوموں کی برابری کی بنیاد پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1940ء کی قرارداد میں قوموں اور قومی وحدتوں کو بااختیار بنانے کی بات کی گئی تھی، مگر آج اس سے مکمل انحراف کرتے ہوئے ملک پر یکطرفہ حکمرانی مسلط کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پشتونخوا وطن میں دہشت گردی کا ناسور حکمرانوں اور ریاستی اداروں کی پالیسی کا نتیجہ ہے، اور آج صورتحال یہ ہے کہ بالخصوص وسطی پشتونخوا کے علاقوں خیبر، باجوڑ، وزیرستان اور دیگر علاقوں سے لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ وفاقی حکومت ایک طرف کچھ کہتی ہے اور صوبائی حکومت کچھ اور، جس سے زیادہ مذاق اور کیا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے خیبر پشتونخوا کی حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی قومی خودمختاری کی بات کرے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بھی افسوس کا مقام ہے کہ پیپلز پارٹی نے 26ویں اور دیگر آئینی ترامیم منظور کر کے آئین کا حلیہ بگاڑ دیا ہے، اور اب 18ویں ترمیم ختم کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب سندھ کی تقسیم کی باتیں ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پشتونخوا وطن آج بھی مختلف حصوں میں منقسم ہے، اور غیور پشتون ملت کو صبر و استقامت کے ساتھ اپنی قومی بقا کی جنگ لڑنی ہوگی، کیونکہ ہماری قیمتی معدنیات اور وسائل پر دنیا بھر کی نظریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیرستان میں موجود تانبے کے ذخائر کی مالیت کھربوں ڈالر بتائی جاتی ہے، مگر اس کے باوجود اتنی وسائل سے مالا مال قوم اپنی آبادی کے تناسب سے سب سے زیادہ مسافر قوم بنی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج چین اور امریکہ انہی نایاب معدنی وسائل کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں، جس سے ہماری سرزمین کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی پشتونخوا میں حکومت نے بجلی کے نظام کو تباہ کر دیا ہے، نہ بجلی ہے، نہ گیس، اور نہ ہی نوجوانوں کے لیے روزگار اور تعلیم کا کوئی مؤثر بندوبست ہے۔
آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پشتون قومی سیاست کا راستہ اپنائیں، کیونکہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ہی پشتون عوام کی امنگوں اور قومی آرمانوں کی حقیقی ترجمان جماعت ہے۔
انہوں نے کہا کہ علی وزیر کے خاندان سے اب تک اٹھارہ جنازے اٹھ چکے ہیں، اس کے باوجود وہ گزشتہ پانچ سال سے بے بنیاد مقدمات میں سندھ میں قید ہیں، تاکہ پشتون اور سندھی عوام کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کی جائیں۔
انہوں نے سندھ کی سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ ہمارے ساتھ مل کر علی وزیر کی رہائی کے لیے آواز بلند کریں۔

WhatsApp
Get Alert