بلوچستان میں حقوق کا کوئی مسئلہ نہیں یہ پاکستان کے دشمن ہیں، رانا ثنا اللہ


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)حالیہ دہشت گردی کے خلاف قومی اسمبلی میں مذمتی قرارداد منظور کرلی گئی، رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بلوچستان میں حقوق کا کوئی مسئلہ نہیں یہ پاکستان کے دشمن ہیں، معصوم لوگوں کو قتل کرنے والے کہاں کے ناراض لوگ ہیں؟
ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا۔ ایوان میں اظہار خیال میں مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مجرم اپنی مجرمانہ ایکٹویٹی کسی بھی جگہ کرسکتے ہیں، دوچار لوگوں کا گروہ کسی بڑی پُرامن جگہ پر بھی کارروائی کرسکتا ہے، بلوچستان میں مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث لوگ شناختی کارڈ دیکھ کر خاص صوبے کے لوگوں کو قتل کرتے ہیں، یہ جرائم پیشہ لوگ جعفر ایکسپریس کو روک کر لوگوں کو بچوں کے سامنے قتل کرتے ہیں یہ کہاں کے ناراض لوگ ہیں؟
ان کا کہنا تھا کہ جعفر ایکسپریس میں جن لوگوں نے عوام کو قتل کیا ان کی میتیں کن لوگوں نے جاکر اسپتالوں سے وصول کیں؟ بلوچستان میں دہشت گردی کرنے والے دشمن ملک کے آلہ کار ہیں، وہ سندور آپریشن کے آلہ کار ہیں، سندور آپریشن کی شکست کا بدلہ لینے کے لیے ان بھٹکے ہوئے لوگوں کو آگے لارہے ہیں، یہ دشمن ملک کی ایماء پر پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، کیا شفاف الیکشن ان کا مطالبہ ہے؟ کیا وہ اس سسٹم کا کبھی حصہ بنے ہیں؟
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ تیس مزدوروں کے شناختی کارڈ چیک کرکے انہوں نے گولیاں ماریں، یہ لوگ مودی کے سندور آپریشن کو پورا کرنے نکلے ہیں، سیکیورٹی فورسزکے 17 اہلکاروں کو شہید کیا گیا، 33 عام شہریوں کو گھروں میں گھس کر قتل کیا گیا، کوئٹہ ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کی گئی لیکن کامیاب نہیں ہوئے، فورسز کے پہنچنے پر یہ اپنی کمیں گاہوں کی طرف بھاگے، 171 لوگ جہنم واصل ہوئے اور کچھ گرفتار بھی ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب دہشت گردوں کو مختلف طریقوں سے ایکسپلین کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو ان کو تقویت ملتی ہے، اے پی ایس واقعے کے بعد نواز شریف نے ان لوگوں کو بھی فون کرکے بلایا جو ایک دن پہلے کہہ رہے تھے وزیراعظم کو گھیسٹ کر نکالیں گے، جب ان دہشت گردوں کو واپس آنے کی اجازت دی گئی تو وہ پھر اپنی کارروائیوں میں لگ گئے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حقوق کا کوئی مسئلہ نہیں یہ پاکستان کے دشمن ہیں، یہ دشمن ملک کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف کام کررہے ہیں، 18ء سے 22ء تک ہم بھی کہتے تھے آپ نے آرٹی ایس بٹھاکر انہیں حکومت میں بٹھا دیا ہے ہمیں کہا جاتا تھا اب آپ سسٹم میں آگئے ہیں، اسی سسٹم میں رہتے ہوئے اس وقت کے وزیراعظم نے کہا تھا پارلیمانی کمیشن بنایا جائے، یہ کمیشن بنا اور اس کا چار سال دوسرا اجلاس ہی نہیں ہوا جب بھی پوچھا پرویز خٹک نے کہا خان صاحب اجازت نہیں دیتے جب کہ آج وزیراعلی کے پی کے سے ملاقات میں وزیراعظم نے بڑی باعزت طریقے سے انہیں بتایا ہے انہیں وزیراعظم نے کہا آپ ریاست کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں۔
رانا ثنا نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کرنے والے پاکستان کے دشمن ہیں، دہشت گردی کے خلاف ہمیں واضح موقف اپنانا چاہیے، اپوزیشن لیڈر نے معاملے کو پوری دنیا میں گھمایا ہے لیکن دہشت گردوں کی جس طرح سے مذمت کرنی چاہیے نہیں کی، یکورٹی فورسز اور عام لوگ جو شہید ہوئے ہیں ان کو ہم سلام پیش کرتے ہیں، جیسے جیسے مودی کی حمایت کم ہوگی دہشت گردی ختم ہوتی جائے گی۔
حالیہ دہشت گردی کے خلاف مذمتی قرارداد منظور
اجلاس کے دوران بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے خلاف وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے مذمتی قرارداد پیش کی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایوان بلوچستان میں ہوئے دہشت گردی کے حالیہ واقعے کی مذمت کرتا ہے۔ ایوان نے قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرلیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے 175 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، فخر کرتے ہیں ان فوجی جوانوں پر جنہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دیئے ان کی قربانی کی بدولت ہم محفوظ ہیں۔
قومی اسمبلی اجلاس میں دہشت گرد واقعات میں شہید اہلکاروں اور شہریوں، سابق صدر آزاد کشمیر سلطان محمود چوہدری کے لیے مولانا مصباح الدین نے دعاء مغفرت کروائی۔
قومی اسمبلی اجلاس میں کارروائی معطل کرنے کی تحریک منظور کی گئی، ایجنڈا معطل کرنے کی تحریک وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے پیش کی، اسد قیصر نے کہا کہ معمول کی کارروائی معطل کر کے بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر بحث کی جائے، یہ ہمارے قومی سلامتی کا مسئلہ ہے اس پر مشترکہ قرارداد منظور کی جائے۔
اعجاز الحق نے کہا کہ متفقہ قرارداد سے پہلے ان کیمرہ بریفنگ دی جائے بتایا جائے بلوچستان میں کیاہوا؟ بلوچستان میں گزشتہ روز ہوئی دہشت گردانہ کارروائی پر ان کیمرہ بریفنگ دی جائے۔

WhatsApp
Get Alert