قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کا سخت خطاب، کوئٹہ و بلوچستان واقعات پر حکومتی ناکامی پر سوالات
حقیقی جمہوریت، پارلیمنٹ کی بالادستی اور وسائل پر حق دیے بغیر پاکستان نہیں بچے گا،محمود خان اچکزئی

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے پشتون بلوچ دو قومی صوبے میں گزشتہ روز ہونے والے حملوں پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت دکھ ہوا اس بات پر اگر خدا نخواستہ ہماری انٹیلیجنس ایجنسیوں نے قصداً و عملاً نظر انداز کر کے یہ کیا ہے تو یہ ادارے مجرم ہیں اور اگر انہیں پتہ نہیں تھا تو انہیں استعفیٰ دیناچاہیے تھا۔ کیسے 18 ضلعوں میں لوگ آئے بندوقیں لے کر کوئٹہ شہر میں داخل ہوئے منڈی کے قریب عام لوگ پھر رہے ہیں ایک بینک نہیں دو نہیں تین اور دو ایسے بھی ہیں جن کو نہیں چھیڑا گیا آخر کیوں یہ محمودخان اچکزئی نے فلور پہ سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ یہ جو دو نمبر کی حکومت ہے یہ اس وقت کہاں تھی؟ کیا یہ صرف کوئٹہ کو چوری کرنے کے لیے پاکستان کو برباد کرنے کے لیے بیٹھے ہیں؟انہوں نے کہا کہ جناب سپیکر ایسی حکومت کو تمہیں توڑ دینا چاہیے۔ اس میں کوئی تو شریف آدمی ہوتا جو استعفیٰ دیتا ۔دنیا کے دیگرملکوں میں ریل گاڑیاں حادثے کا شکار ہوتی ہیں ایکسیڈنٹ کرتی ہیں تو وزیر مستعفی ہوتا ہے یہاں ہم کہہ رہے ہیں ہماری فوجوں نے بڑا کمال کر دیا ہے۔ خدا کے لیے جو لوگ آپ کے پاس آئے تھے وہ مرنے کے لیے آئے تھے ورنہ وہ بھاگ کے چلے جاتے وہ مرنے کے لیے ہی آئے ہم نے انہیں مار دیا۔محمودخان اچکزئی نے کہا معافی چاہتا ہوں امریکہ میں ٹاوروں پر جہاز گرے میں گھر کے بیٹھک میں مہمانوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ گھر سے کسی نے کہا کہ ٹاور میں جہاز لگا ہے میں جیسے ہی آیا تو دوسرا جہاز دوسری بلڈنگ میں لگا صرف چار منٹوں میں تمام امریکہ کے ٹیلی ویژنوں پر یہ خبر ائی کہ (امریکہ از انڈر اٹیک) امریکہ حملے کی ضد میں ہے امریکہ پر عملہ ہوا ہے باقی سب کچھ بند ہوا وہاں کوئٹہ میں ہمارے سپاہی اور ہمارے لوگ ایک دوسرے کو مار رہے تھے اور نقوی صاحب کہہ رہے تھے کہ جی اتنے رنز فلانے نے بنائے ہیں اتنے رنز فلانے نے بنائے کرکٹ پہ تبصرے ہو رہے تھے لخ ہو ایسی بادشاہی پہ بند ہونا چاہیے تھا۔ سارے ٹیلی ویژنوں پہ یہ آنا چاہیے تھا کہ پاکستان پہ دہشت گردوں کا حملہ ہے کسی نے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مہربانی کریں سمجھائیں اپنے دوستوں کو یہاں کوئٹہ کی بات ہو رہی ہے خواجہ آصف کو جو کچھ لکھوایا گیا ہے اس پر مجھے دکھ ہوا ہے۔ اور اس بات پر بھی کہ میں ابھی تک آپ کے چیمبر میں نہیں آیا اور نہ آپ اپوزیشن کے چیمبر میں آئے ہیں یہ راستے فاصلے کم ہونے چاہیے جناب سپیکر دکھ ہوا خوآجہ اصف میرا دوست بھی ہے اور بہترین سیاسی کارکن رہا ہے۔ محمودخان اچکزئی نے دعوے سے کہا کہ میرا دعوی ہے کہ بلوچستان تمام پاکستان کے لیے بلائنڈ سپاٹ نہ دکھنے والا نقطہ ہے کوئی بھی عالم سے لے کر عام آدمی تک حتی کہ ہماری دفتر خارجہ بھی بلوچستان کو نہیں جانتی کہ بلوچستان کیا ہے اسلئے اپ مجھے تاریخ میں جانے کی اجازت دیں۔ بلوچستان صوبے کی حیثیت سے ایک چیف کمشنر صوبے کی حیثیت سے رابرٹ سنڈیمن نے 1886 میں گنڈھمک معائدے کے تحت جب دوسری افغان اینگلو جنگ میں انگریزوں نے کندھار اور جلال اباد کو قبضہ کیا تھا اور وہ کابل میں بیٹھے ہوئے تھے اس وقت کا بادشاہ شیر علی شمال کی طرف چلا گیا تھا اس کا ایک بیٹا ایوب انگریزوں کے خلاف لڑنے چلا دوسرا یعقوب جیل میں تھا مشہور میوند کی لڑائی جس میں ملالہ ایک استعارہ بن گئی وہ اس جنگ کی داستان ہے جس میں پہلی دفعہ انگریزی فوجوں کو قبائلی لوگوں کے ہاتھوں شکست ہوئی لیکن وہ اپنی فتح قائم نہیں رکھ سکے ایوب خان اپنی تمام جنگوں کے باوجود ایران چلا گیا اس کا بڑا بھائی یعقوب چونکہ جیل میں تھا یعقوب کو جیل سے نکال کے انگریزوں نے انہیں (گنڈھمک)جو جلال آباد سے 12 بارہ میل کے فاصلے پر ہے وہاں خیمے لگا کر اس کو بٹھایا گیا مئی 1979 ءکو وہاں ایک معاہدہ ہوا یعقوب سے کہاگیا کہ ہم آپ کو افغانستان کا بادشاہ بنا دیں گے انہوں نے کہا کہ کس چیز کی بادشاہی کابل میں بھی آپ بیٹھے ہوئے ہیں جلال آباد بھی اور کندھار بھی اپ کے پاس ہے پھر کہاں کی بادشاہی تو اس پر انگریزوں نے کہا کہ ہم مشورہ کرتے ہیں پھر مئی 1879 کو گنڈھمک ٹریٹی ہوئی اس میں انگریزوں نے کہا کہ ہم کندھار سے فوجیں نکال لیتے ہیں کابل جلال آباد سے بھی نکال لیتے ہیں لیکن اپ کو بعض علاقے ہمیں دینے ہوں گے اس میں دریائے خیبر میچنئی اورکزی ایجنسی اور ہماری طرف کوئٹہ کو چھوڑ کے یہ پشتون علاقہ Assigned District ڈسٹرکٹ کے نام سے افغانستان سے کاٹا گیا اور افغانستان کو یہ کہا گیا کہ اس کا نظام ہم خود سنبھالیں گے یہ علاقے اب افغانستان کا حصہ نہیں ہوں گے یہ اب برٹش انڈیا کا حصہ ہوں گے ہم یہاں ٹیکسز وغیرہ لگائیں گے ٹیکسز وغیرہ لگا کے ہم کابل کو سالانہ چھ لاکھ روپے دیں گے انگریزوں میں ایک ایسی سوچ پائی گئی کہ افغانوں کے علاقے واپس کرے اور افغانوں کے ساتھ جمہوری بنیادوں پہ رشتے بنائیں لیکن رابرٹ سنڈیمن جو حکمران تھا نے کہا کہ نہیں مجھے کام کرنے دیں تو 1886 میں رابرٹ سنڈیمن نے کوئٹہ کو مرکز بنا کے یہ علاقے جو لکیر کھینچی گئی تھی (سوائے خیبر وہی رہے)کوئٹہ کو مرکز بنا کر پہلی دفعہ ایک مسلمان چیف کمشنر صوبہ بنایا جس میں صرف یہ پشتون علاقے تھے ہمارے ساتھ صرف دو بلوچ رہتے تھے ایک مری ایک بگٹی 10 سال بعد اپنی ضروریات کے تحت انہوں نے چاغی کا صرف ایران کو جانے والا یہ علاقہ خان قلات سے ایک لاکھ 86 ہزار روپے سالانہ کے حساب سے لے کر اس کو بھی ہمارے ساتھ شامل کیا گیا۔ یہ جمالدینی کا علاقہ ہے دو سال بعد 10 ہزار روپے پہ کھوسہ اور جمالی کا جو علاقہ ہے پٹ فیدر وغیرہ یہ ملا دیے گئے یہ برٹش بلوچستان تھا یہاں سوائے مری اور بگٹی کے کوئی بلوچ نہیں تھا وہاں جو گورننگ باڈی بنائی گئی ہا¶س اف لارڈز کے طرز پر ہر قبیلے کے سردار کو لیا گیا تقریبا 52 سردار بنتے تھے ان میں صرف چھ بلوچ تھے چاغی کے دو تھے جمالی و کھوسہ کے دو تھے مری اور بگٹی کا ایک ایک باقی سارے کے سارے پشتون تھے جس کو وہ شاہی جرگہ کہتے تھے شاہی جرگہ وہ باڈی تھا جو برٹش بلوچستان کو سنبھالتا تھا یہ واحد مسلمان چیف کمشنر صوبہ تھا اس وقت این ڈبلیو ایف پی پنجاب کا حصہ تھا یہ سرے سے وجود ہی نہیں رکھتا تھا۔ اور اس پہلے چیف کمشنر کے صوبے کا نام انہوں نے برٹش بلوچستان رکھا جوکہ بعد میں انگریز گورنر مورخ اولف کیرو جو پشاور کا گورنر تھا، نے کہا کہ یہ غلط نام ہے اس کو برٹش افغانستان ہونا چاہیے تھا یہ اولف کیرو 1886 میں جب برٹش بلوچستان بنا اصل علاقہ جو حقیقی بلوچستان قلات خاران مکران لسبیلہ جھل مگسی یہ ہم سے علیحدہ رہا یہ سٹیٹس تھے تاریخ میں کبھی بھی پشتون اور بلوچ ایک ایڈمنسٹریشن میں نہیں لائے گئے پہلی دفعہ یہ نیا صوبہ 1970 میں بنایا گیا اور بلوچ سٹیٹس کو ہمارے ساتھ مدغم کیا گیا۔ محمودخان اچکزئی نے کہا جہاں تک خواجہ آصف بھائی بتا رہے ہیں بلوچ سٹیٹس پاکستان انڈیپینڈنٹس ایکٹ میں جو کہا گیا ہے کہ پاکستان کن کن علاقوں پر مشتمل ہوگا ریفرنڈم کے بعد این ڈبلیو پی، سندھ،پنجاب، بنگال اور برٹش بلوچستان اس میں نہ فاٹا کا ذکر ہے اور نہ ہی بلوچ سٹیٹس کا ذکر ہے کہ یہ پاکستان کا حصہ ہیں یہ اس کی تاریخ ہے۔ 1971 میں یہ صوبہ بنا۔ خواجہ آصف کی بات ٹھیک ہے۔ بلوچ میرے دوست ہیں کوئی سن رہا ہوگا بلوچ سٹیٹس کی آج بھی یہ حیثیت ہے کہ کوئی پارٹی مری کے علاقے میں مری سردار کی مرضی کے بغیر جلسہ نہیں کر سکتی نہ کسی نے کیا ہے آج تک بگٹی کے علاقے میں بگٹی سردار کے اشیرباد سے یا اس کی پارٹی میں ہوگا یا اس کا مہمان ہوگا یا میزبان ہوگا وہاں بھی کوئی اور جلسہ نہیں کر سکتا رند کے علاقے میں رند کی مرضی کے بغیر آج بھی کوئی جلسہ نہیں ہو سکتا وہ بالکل دبئی کی طرح راجواڑے ہیں ان راجواڑوں کو اپ نے ہمارے ساتھ شامل کر دیا میں اس میں تفصیل سے نہیں جانا چاہتا میں نے صرف اس کی تصحیح کر دی اور میں اس بات کے حق میں نہیں ہوں۔ دکھ کی بات ہے خواجہ آصف نے ٹھیک کہا غریب آدمی کو کسی نائی کو دھوبی کو درزی کو اس وجہ سے قتل کرنا کہ اس کی زبان کیا ہے میں اس کو گناہ سمجھتا ہوں غلط کام سمجھتا ہوں لیکن سوئی گیس سوئی علاقے سے نکلی ہے اب وہ ختم ہونے والی ہے یہاں اسلام آباد میں ہے پاکستان کے تمام پہاڑوں تک پہنچ چکی ہے ہر جگہ پاکستان میں سوئی گیس ایسی گھسی ہوئی ہے کہ ہم امریکہ میں بھی اس کو سوئی گیس کہتے ہیں ہم لندن میں بھی اس کو سوئی گیس ہی کہتے ہیں لیکن آج بھی مری بگٹی عورتیں توے پہ آگ لگا کے روٹیاں پکاتی ہیں کون چھوڑے گا اپ کو اس طرح معدنیات نکالنے کے لیے؟ آج بھی آپ جائیں دیکھیں میرا گا¶ں سوئی سے 180 میل کے فاصلے پر ہے وہاں ابھی تک گیس نہیں پہنچی نیچے کے سارے بلوچستان میں کہیں پہ بھی گیس نہیں پہنچی سارے پاکستان نے اس گیس پر کارخانے چلائے دنیا جہاں کے لاکھوں کروڑوں ڈالر کی کمائی کی میں آج بھی کہتا ہوں پاکستان کے جوڑنے کا صرف ایک طریقہ ہے وہ یہ کہ عوام کے اس ہا¶س کو مضبوط بنائیں یہاں لوگوں کی طاقت لائیں یہاں پشتون بلوچ سندھی سرائیکی کے ان نمائندوں کو یہاں بلائیں جو صحیح طریقے سے منتخب ہو ان کو یہاں لائیں پھر نہ سندھی پاگل ہے کہ لڑے گا نہ پنجابی کہ پاکستان کو توڑنے کی کوشش کرے گا نہ سرائیکی پاگل ہے نہ بلوچ ہم نے بہت ظلم کیا ہے ایک دفعہ ہمارا ملک ٹوٹ چکا ہے راجہ صاحب بیٹھے ہوئے ہیں میرے سندھی صاحب بھی بیٹھے ہوئے ہیں بلوچ بھائی بیٹھے ہوئے ہیں آج اپ بلوچ بھائی سے کہہ دیں کہ بلوچ بھائی!ماضی گیا آئیں بسم اللہ کریں اپ کے ساحل اور وسائل پہ پہلا حق اپ کے بچوں کا ہے یہی سندھی سے پنجابی سے اور پشتون سے کہیں کہ اپ کے وسائل پہ پہلا حق اپ کے بچوں کا ہے یہ خیبر کا میرا دوست بیٹھا ہوا ہے ان سے کہیں کہ پشتونخوا وطن میں جو اللہ پاک نے نعمتیں پیدا کی ہیں اس پہ اپ کا اپ کے بچے کا پہلا حق ہے پاکستان ایک بہترین گلدستہ بن جائے گا اگر ہم سب سر پہ قران رکھ دیں کہ پاکستان زندہ باد لیکن پاکستان زندہ باد نہیں ہوگا پاکستان تب زندہ باد ہوگا جب پشتون بلوچ سندھی سرائیکی زندہ باد ہوگا پھر جا کے پاکستان ایک بہترین گلدستہ بنے گا تاریخ کے اوراق پلٹنے کے لیے خواجہ آصف کو جو معلومات دی گئی ہیں انتہائی ناقص ہیں پشتون آبادی 24 فیصد انہوں نے بتائی ۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پشتون وہاں کے 50 فیصد ہیں اس پہ ہماری لڑائیاں ہوئی ہیں اس پہ جھگڑے ہوئے ہیں خان آف قلات چونکہ ان باتوں کو سمجھتا تھا وہ چیف ہے سر سردار سراوان رئیسانی ہیں سر سردار جھالاوان زہری ہے یہ ان لوگوں کا اپنا نظام ہے خان آف قلات جب گورنر بنا اس نے آرڈیننس جاری کیا کیونکہ اسے یہ پتہ تھا کہ یہ غیر فطری صوبہ ہے یہ نہیں چلے گا اس نے یہ آرڈیننس جاری کیا تھا کہ یہ صوبہ چونکہ بن گیا ہے اب اس کو چلانے کا طریقہ یہی ہے کہ 50 فیصد بلوچ اور براہوی دونوں۔ 40 فیصد پشتون اور 10 فیصد آباد کار یہ بہترین فارمولا تھا 1977ءکا لیکن ہمارے یار دوستوں نے اسے پھاڑ دیا فارغ کیا۔ یہ جو کچھ پرسوں ہوا بہت دکھ ہوا خواجہ آصف کو جو کچھ لکھوایا گیا مجھے اس پر بھی دکھ ہوا ہمارے دفتر خارجہ یہ سب کچھ لکھتی ہے۔ کوئٹہ کا نقشہ کچھ یوں ہے کوئٹہ ایک پیالہ نما شہرہے میاں غنڈی سے لے کر کچلاغ تک یہ زمین کاسی پشتونوں کی ریکارڈ ہے بائیں جانب بازئی کاکڑ ہیں دائیں پہ یاسین زئی کاکڑ اور درانی کی ہے کسی بلوچ سردار خان وڈیرے کسی بلوچ دہشتگردکی کسی بلوچ عالم کی اپنی پدری صرف 10 ایکڑ زمین بھی کوئٹہ میں کسی کی بھی نہیں ہے یہ سارا کوئٹہ ہے۔ خواجہ آصف اپ بھی انگریزوں والی گزیٹیئر پڑھیں اس میں لکھا ہے کوئٹہ خالص افغان شہر ہے بلوچ حساب میں بھی نہیں آتے۔ نو فیصد لوگ براہوی بولنے والے ہیں جو سرلٹ اور بولان کے دھانے پہ رہائش پذیر ہیں یہ کوئٹہ کی تاریخ ہے البتہ دو قبیلے ہمارے ساتھ لہڑی اور شاہوانی وہ کاسی قبیلے کے لٹ بند ہیں یعنی بزگرتھے۔ دکھ ہوا کل نہ کسی ٹیلی ویژن نے گانے بند کیے نقوی صاحب تو لگے ہوئے تھے کہ فلاں ٹیم کو ہم نے ہرا دیا ہے۔ وہاں جنازے کے لیے آپ گئے کیا جنازہ؟ کون سا جنازہ؟ کبھی ایسا ہوا ہے کہ پانچ سے زیادہ ضلعوں میں لوگ پھر رہے ہوں گھنٹوں۔ آج شہباز بھائی نہیں آیا دوسری بات یہ ہے کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے بات ہو رہی ہے عمران خان بیمار ہے یہ کون سی آسمان گرے گی ہر آدمی کا اپنا ذاتی معالج ہوتا ہے بھیج دیں انہیں اپنے ذاتی معالج کے پاس خواجہ آصف ابھی حکم دے دو ان کے ذاتی دو ڈاکٹروں کو جیل بھیج دیجئے وہ معائنہ کر کے ا ٓجائیں گے سب کو بتا دیں گے کہ عمران خان کے صحت کی کیا حالت ہے سارا پاکستان لگا ہوا ہے رات کو یہ ہوا ان کی آنکھ میں یہ مسئلہ ہے رات کو وہ ہوا۔ عمران خان آپ کے پاس ہے آپ کی پراپرٹی ہے وہ عام آدمی نہیں ہے وہ بہت بڑے تعداد کے عوام کا لیڈر ہے میں خط لکھ رہا تھا شہباز بھائی کو لکھوں گا میں نے اس میں لکھا بھی ہے کہ اس بات میں کیا حرج ہے کہ عمران خان کے ذاتی معالج ہوں گے دو آدمیوں کو بیچ دیں وہ عوام کو عمران خان کی صحت کے حوالے سے احوال دے دیں گے یہ ہر بات کا بتنگڑ بنانا ہر بات کا مسئلہ بنانا اس کا کچھ نہیں بنے گا۔ محمودخان اچکزئی نے کہا کہ خواجہ آصف کے ساتھ بیٹھوں گا ان کو معلومات غلط دی گئی ہیں بلوچستان کے مسئلے کا علاج ہے ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سینٹ میں رانا نے کہا تھا کہ لوگوں کو راستے میں بسوں سے اتارتے ہیں گولیاں مارتے ہیں جس علاقے میں یہ عمل ہوا اس سے ایک ڈپٹی کمشنر کا دفتر 20 میل دوسرے ڈپٹی کمشنر کا دفتر 35 اور تیسرے کا 20 میل کے فاصلے پر ہے پانچ گھنٹے یہ لوگ لگے رہے ہیں وہاں آپ کا کوئی نمائندہ نہیں گیا اور جن علاقوں میں یہ سب کچھ کرتے ہیں وہاں کے لوگ شکوک میں پڑھتے ہیں اور آپ کو میں اس لیے کہتا ہوں کہ اپ کے رشتے ہیں ان لوگوں سے پہاڑی پہ مسلح لوگ موجود ہیں لیکن یہ تماشے ہوتے ہیں کوئی کسی کو نہیں روکتا۔ آئیں توبہ کریں، آئیں اس ملک کو چلائیں اس کو بچائیں اور بچانے کا واحد راستہ ہے حقیقی جمہوریت ،پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ،وسائل پہ قوموں کا واک و اختیار ہو۔ یہاں ہم کیا کر رہے ہیں غریب آدمی کو دیہاڑی نہیں مل رہی ہماری غلط پالیسیوں کی وجہ سے ایک بات جو انہوں نے کی دہشتگردی کی خواجہ آصف بھائی میں آپ کا احترام کرتا ہوں آپ میرے دوست ہیں آپ کے والد میرے ساتھ میرے والد کے رشتے ہیں ہمارے ہمیں تاریخ کو مسخ نہیں کرنی چاہیے ۔دہشت گردی کہاں سے آئی افغانستان کی بات ہو رہی ہے افغانستان سے ہمارے لیے تین چیزیں مفت ا ٓسکتی ہیں بجلی تیل اور گیس اسے اپ لے سکتے ہیں افغانستان کے راستے سے وہاں سے جو پائپ لائن آئے گی اس پائپ لائن کی ہمیں کروڑوں ڈالر ملیں گے مستقل دشمنیاں نہیں ہوتی جرمنوں اور روسیوں، جرمنوں اور فرانسیسیوں نے ایک دوسروں کے لوگ مارے لیکن ان کے درمیان پاسپورٹ آج نہیں ہے ہم یہاں سے لگے ہوئے ہیں خدا کے لیے آئیں اس ملک کو بچائیں ۔ ایران کے ارد گرد جو کچھ ہو رہا ہے میں درخواست کروں گا دہشت گردی پہ یہ جو ہمارے ارد گرد جو کچھ ہو رہا ہے اس کے لیے ایک دو دن سیشن رکھیں اگر آپ تھک جاتے ہیں اپ کے بعد ڈپٹی سپیکر ہوتا ہے پھر چار آدمی اور ہوتے ہیں پینل ہوتا ہے آپ جائیں بیٹھ جائیں لوگوں کو بولنے دیں سپیکر کی کرسی پر کسی اور کو بٹھا دیں ۔محمود خان اچکزئی کی تقریر کے دوران پہلے نشریات کی آواز بند کرائی گئی اور پھر قومی اسمبلی کے چینل سے ویڈیو بھی بند کر دی گئی۔
