مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 عوام دشمن اور آئین کے منافی ہے، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

**کوئٹہ (قدرت روزنامہ):** پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں صوبائی حکومت اور محکمہ مائنز اینڈ منرلز کی حالیہ کارروائیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبائی ڈائریکٹر جنرل مائنز اینڈ منرلز کی جانب سے 31 جنوری 2026 کو اخبارات میں شائع ہونے والا اشتہار، جس میں مائنز ہولڈرز کو مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 کے سیکشن 98(3) اور 99 کے تحت حتمی شوکاز نوٹس جاری کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے، دراصل صوبے کے پشتون اور بلوچ عوام اور سیاسی و جمہوری جماعتوں کے ساتھ ایک سنگین مذاق اور عوام دشمن اقدام ہے۔
پریس ریلیز میں کہا گیا کہ 12 مارچ 2025 کو صوبائی اسمبلی سے متنازع اور عوام دشمن مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 منظور کیا گیا، جس کے خلاف صوبے کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے شدید احتجاج کیا اور اس قانون کو بلوچستان ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کیا۔ اس حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس بھی منعقد کی گئی، جس میں متفقہ طور پر مطالبہ کیا گیا کہ مذکورہ ایکٹ کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔
بیان میں یاد دلایا گیا کہ اس موقع پر وزیر اعلیٰ اور صوبائی حکومت نے صوبائی اسمبلی کے فلور پر واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 پر مکمل طور پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔ تاہم پارٹی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس یقین دہانی کے برخلاف، 31 جنوری 2026 کو روزنامہ جنگ سمیت دیگر اخبارات میں شائع ہونے والے اشتہار کے ذریعے مائنز مالکان کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 کے سیکشن 98 اور 99 کے تحت اپنے کان کنی کے امور شروع کریں، بصورت دیگر ان کے لائسنس منسوخ کر دیے جائیں گے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مطابق یہ اقدام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی فلور پر دی گئی یقین دہانی کے برعکس عمل کیا اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 آئینِ پاکستان کی روح کے منافی منظور کیا گیا ہے، کیونکہ آئین کے تحت معدنی وسائل پر مکمل اختیار متعلقہ صوبے کا ہوتا ہے، مگر اس ایکٹ کے ذریعے صوبائی اسمبلی نے اپنے معدنی وسائل کے اختیارات وفاق کے حوالے کر دیے ہیں۔
پارٹی نے خبردار کیا کہ یہ اقدام نہ صرف صوبائی خودمختاری پر کاری ضرب ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے کھربوں ڈالر مالیت کے قدرتی وسائل کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے واضح کیا کہ وہ حکومت کی اس دوغلی پالیسی کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ جب یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے تو اس ایکٹ پر عمل درآمد جاری رکھنا عدالتی عمل اور قانون کی بالادستی کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور اس پر ہر قسم کا عمل درآمد بند کیا جائے۔
