حلیم پلازہ سانحہ: پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کا متاثرین کے کیمپ کا دورہ، فوری امداد کا مطالبہ


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے کی قیادت میں پارٹی کے ایک نمائندہ وفد نے حلیم پلازہ سانحے کے متاثرین کی جانب سے قائم کیے گئے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا۔ وفد میں صوبائی آفس سیکریٹری ندا سنگر، صوبائی ڈپٹی سیکریٹری پروفیسر اسد ترین، ضلع کوئٹہ کے ڈپٹی سیکریٹری سید عبداللہ آغا، عصمت اللہ ترین، ضلع کمیٹی کے رکن فرید کمال اور قدرت اللہ خلجی، انور شاہین، نظام خان کھرل اور پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پی ایس او) کے ننگیال خان بڑیچ سمیت دیگر رہنما شامل تھے۔
اس موقع پر انجمن تاجران کے رہنما یاسین آغا اور عبدالرحیم کاکڑ، پلازہ کے مالک افراسیاب خان اور دیگر متاثرین نے وفد کو حلیم پلازہ سانحے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ متاثرین نے بتایا کہ تقریباً سولہ روز قبل علی الصبح چار بجے پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں حلیم پلازہ مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوگیا، جس کے نتیجے میں دکانداروں کو کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
متاثرین کے مطابق واقعے کے بعد تاحال انہیں خاطر خواہ سرکاری امداد یا مؤثر ریلیف فراہم نہیں کیا گیا، جس کے باعث وہ شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ دکانداروں اور محنت کشوں کا روزگار مکمل طور پر بند ہو چکا ہے اور کئی خاندان فاقہ کشی کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے وفد نے متاثرین کے مسائل توجہ سے سنے اور ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ حلیم پلازہ سانحہ صرف ایک عمارت کا نقصان نہیں بلکہ سینکڑوں خاندانوں کے روزگار کا مسئلہ ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور متاثرین کو فوری مالی امداد، متبادل کاروباری سہولتیں اور جامع بحالی پیکج فراہم کیا جائے۔
رہنماؤں نے مزید کہا کہ چھوٹے تاجروں اور محنت کش طبقے کو اس طرح بے یار و مددگار چھوڑ دینا انتہائی افسوسناک ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرین کی فوری داد رسی کرے اور انہیں دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل بنائے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے واضح کیا کہ اگر متاثرین کو فوری ریلیف فراہم نہ کیا گیا تو پارٹی ہر جمہوری اور آئینی فورم پر ان کی آواز بلند کرے گی۔

WhatsApp
Get Alert