بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال، کوئٹہ میں 83 سیاسی کارکن گرفتار


کوئٹہ (قدرت روزنامہ): تحریک تحفظ آئین پاکستان کی کال پر ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی، جبکہ صوبے میں تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ سروس بند رہی۔ کوئٹہ میں پولیس نے امن و امان میں خلل ڈالنے کے الزام میں 83 سیاسی کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق 8 فروری 2024 کے عام انتخابات کو دو سال مکمل ہونے پر مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف تحریک تحفظ آئین پاکستان کی اپیل پر بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی۔ کوئٹہ، پشین، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، ژوب، ہرنائی، سبی، خضدار، مستونگ اور قلات سمیت تمام اضلاع میں کاروباری و تجارتی مراکز، دکانیں اور شاہراہیں بند رہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم رہا۔
تاجر برادری کی جانب سے مکمل حمایت کے باعث صوبے بھر میں بازار ویران نظر آئے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ الیکشن 2024 کے نتائج مبینہ دھاندلی کے ذریعے تبدیل کیے گئے اور حقیقی سیاسی جماعتوں کا مینڈیٹ چرایا گیا۔
دوسری جانب پولیس نے امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کے الزام میں کوئٹہ میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ)، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے 83 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا، جبکہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی درجنوں سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون شاہد رند کے مطابق صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ ہے، غیر قانونی ہڑتال، اجتماعات یا سڑکوں کی بندش کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

WhatsApp
Get Alert