جامشورو میں خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور قتل کی شدید مذمت، ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری کردہ پریس ریلیز میں صوبہ سندھ کے ضلع جامشورو میں پشتون خاتون بی بی صابرہ کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی اور بہیمانہ قتل کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ پارٹی نے اس افسوسناک واقعے کو انسانیت سوز اور معاشرتی و اخلاقی اقدار پر حملہ قرار دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک حاملہ خاتون اور چار بچوں کی ماں کو درندگی کا نشانہ بنانا سنگین جرم ہے جس نے پوری قوم کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ پارٹی نے اس بات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا کہ مبینہ اغوا کی اطلاع کے باوجود جامشورو اور حیدرآباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس بروقت اور مؤثر کارروائی نہ کر سکی، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق صابرہ بیگم محنت مزدوری اور گھروں میں کپڑے فروخت کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہی تھیں۔ ان کی کئی روزہ گمشدگی اور بعد ازاں مسخ شدہ لاش کی برآمدگی نے ریاستی اداروں کی ذمہ داری پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے وفاقی حکومت اور حکومتِ سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایف آئی آر میں نامزد تمام ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے اور کیس کو ترجیحی بنیادوں پر چلا کر ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ پارٹی نے شفاف، غیر جانبدارانہ اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے، چاہے وہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں۔
بیان میں مقتولہ کے خاندان کو مکمل قانونی تحفظ اور مناسب مالی معاونت فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے تاکہ وہ بلا دباؤ انصاف حاصل کر سکیں۔ پارٹی نے جرائم پیشہ عناصر اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی پر زور دیا ہے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے مقتولہ کے اہلِ خانہ سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ انصاف کی فراہمی تک ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔ پارٹی کے حیدرآباد کے ذمہ داران، جن میں ضلع سیکریٹری جاوید آغا، شفیع خان اور قاسم خان شامل ہیں، لواحقین اور حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں اور دیگر سیاسی و سماجی تنظیموں سے بھی مشاورت جاری ہے۔
پارٹی نے خبردار کیا ہے کہ اگر قانونی اور پرامن کوششوں کے باوجود مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو انصاف کے لیے ہر جمہوری اور احتجاجی راستہ اختیار کیا جائے گا۔
