نماز کے بعد کس کو یاد کرتے ہوئے پہلا گانا بنایا؟ آئمہ بیگ کی انوکھی کہانی نے لوگوں کے کان کھڑے کر دیے

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)پاکستانی میوزک انڈسٹری کی مقبول اور باصلاحیت گلوکارہ آئمہ بیگ نے کم عمری میں وہ مقام حاصل کیا جس کا خواب بہت سے لوگ برسوں دیکھتے ہیں۔ مزاحیہ ٹی وی شو مذاق رات سے پہچان بنانے کے بعد انہوں نے پلے بیک سنگنگ میں بھی اپنی آواز کا جادو چلایا، اور اب وہ اپنے پہلے میوزک البم کے ذریعے ایک نئے سفر کا آغاز کرنے جا رہی ہیں۔
شہرت کے ساتھ ساتھ آئمہ بیگ کو ذاتی زندگی سے جڑی کئی خبروں اور تنازعات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران آئمہ بیگ نے صحافی ملیحہ رحمان سے گفتگو میں اپنی زندگی کا ایک نہایت جذباتی اور روحانی لمحہ شیئر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ فجر کی نماز کے بعد ایک ایسا وقت آیا جب وہ شدید جذباتی کیفیت میں اپنی مرحومہ والدہ کو یاد کر رہی تھیں، آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے اور دل بس انہیں گلے لگانے کو چاہ رہا تھا۔
آئمہ بیگ کے مطابق، میں نے فجر ادا کی تو خود کو بے حد کمزور محسوس کیا۔ امی کی کچھ چیزیں دیکھ کر ان کی یاد اور بھی گہری ہو گئی۔ نماز کے بعد سونے کی کوشش کی مگر آنسو مسلسل بہتے رہے۔ اسی کیفیت میں، صبح تقریباً چھ بجے، امی کے لیے چند بول اور ایک دھن میرے دل میں اُتری جسے میں نے فوراً ریکارڈ کر لیا۔ میں جب بھی کوئی دھن محسوس کرتی ہوں، آواز ٹوٹ جائے یا ریکارڈنگ مکمل نہ ہو، میں اسے محفوظ کر لیتی ہوں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی والدہ کے بیمار دنوں میں وہ میڈیا میں نئی نئی آئی تھیں، زیادہ تر وقت کام میں گزرتا تھا، اسی لیے بسترِ علالت پر ماں کو وہ وقت نہ دے سکیں جس کی خواہش تھی۔ امی ہی تھیں جو مجھے شوز پر بھیجتی تھیں، مگر وہی ان کے آخری دن تھے۔ آئمہ بیگ کی یہ باتیں سن کر مداح بھی آبدیدہ ہو گئے، کیونکہ یہ کہانی صرف ایک گلوکارہ کی نہیں بلکہ ایک بیٹی کے ٹوٹے دل کی آواز ہے۔
