پیٹ درد، گیس، قبض یا سوجن۔۔ جانیں پیٹ کے تمام مسائل کے لیئے دہی کس وقت کھانی چاہیئے؟ اور اس کے فائدے

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)ماہرین صحت کے مطابق اگر آپ دن بھر کی تھکن کے بعد اپنی صحت کے لیے کوئی ایک فائدہ مند چیز کھانا چاہتے ہیں تو شام کے وقت دہی آپ کے لیے بہترین انتخاب ہے۔ یہ نہ صرف پیٹ کو سکون دیتی ہے بلکہ نظامِ ہضم کو فعال بنا کر جسم میں غذائیت کے جذب کو بھی بہتر کرتی ہے۔
شام کے اوقات میں ہمارا نظامِ ہضم فطری طور پر سست پڑ جاتا ہے، ایسے میں دہی ایک قدرتی ٹانک کا کام کرتی ہے جو پیٹ میں بننے والی گیس، جلن اور بدہضمی جیسے مسائل کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
دہی میں موجود کیلشیم اور وٹامن ڈی جسم کی ہڈیوں کو مضبوط بناتے ہیں اور جسم میں کیلشیم جذب ہونے کے عمل کو تیز کرتے ہیں۔ اس لیے اگر شام کے کھانے میں دہی شامل کر لی جائے تو یہ دوہرا فائدہ دیتی ہے — ہاضمہ بھی درست رہتا ہے اور جسم کو ضروری غذائیت بھی ملتی ہے۔
پیٹ میں درد، گیس یا سوجن:
اگر آپ دودھ یا دیگر ڈیری مصنوعات استعمال کرنے کے بعد پیٹ میں درد، گیس یا سوجن محسوس کرتے ہیں تو دہی آپ کے لیے مثالی ہے، کیونکہ اس میں موجود بیکٹیریا لیکٹوز کو جزوی طور پر توڑ دیتے ہیں، جس سے ہاضمہ آسان ہو جاتا ہے۔ شام میں دہی کھانے سے نہ صرف پیٹ پھولنے کی شکایت کم ہوتی ہے بلکہ آنتوں کی حرکت بھی متوازن رہتی ہے۔
قبض کے لیے قدرتی دوا:
مزید یہ کہ دہی قبض کے شکار افراد کے لیے قدرتی دوا ہے۔ اس میں موجود پروبائیوٹکس آنتوں کو فعال رکھتے ہیں، جس سے ہاضمہ درست رہتا ہے اور پیٹ ہلکا محسوس ہوتا ہے۔ البتہ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ چینی کے بغیر یا کم شکر والی دہی استعمال کریں کیونکہ زیادہ شکر والی دہی موٹاپے اور آنتوں کی خرابی کا باعث بن سکتی ہے۔
بہتر نیند کے لیئے:
اگر آپ رات کے کھانے کے تقریباً دو گھنٹے بعد دہی کھانے کی عادت بنا لیں تو یہ نہ صرف نیند بہتر بناتی ہے بلکہ جسم میں کیلشیم، پروٹین اور پروبائیوٹکس کا توازن بھی برقرار رکھتی ہے — یوں ایک پیالہ دہی آپ کی شام کو صحت مند اور پرسکون بنا سکتا ہے۔
