عنوان: بلوچستان اسمبلی میں اغوا برائے تاوان، ایران بارڈر بندش اور گیس لوڈشیڈنگ پر شدید بحث، اجلاس 25 فروری تک ملتوی


کوئٹہ (قدرت روزنامہ) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پنجگور اور تربت میں اغوا برائے تاوان کے بڑھتے واقعات، ایران بارڈر کی طویل بندش اور ماہ رمضان میں گیس لوڈشیڈنگ جیسے اہم عوامی مسائل پر تفصیلی بحث کی گئی۔ اراکین اسمبلی نے حکومت سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا جبکہ بعض وزرا نے حکومتی اقدامات سے ایوان کو آگاہ کیا۔
رکن صوبائی اسمبلی رحمت صالح بلوچ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پنجگور اور تربت میں اغوا برائے تاوان باقاعدہ کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اغوا کار مقامی نمبروں سے کالز کرتے ہیں جس سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس سنگین مسئلے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے کیونکہ پورا علاقہ عدم تحفظ کا شکار ہے۔
صوبائی وزیر ظہور بلیدی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ امن و امان کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ رکن اسمبلی اصغر علی رند نے بھی تربت میں اغوا کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ متعلقہ ادارے اغوا ہونے والے نوجوان کو فوری بازیاب کرائیں۔
اجلاس کے دوران رکن اسمبلی زابد ریکی نے ایران بارڈر کی دو سال سے بندش کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ بلوچستان بھی پاکستان کا اہم صوبہ ہے اور یہاں کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے کیونکہ بارڈر بندش سے مقامی معیشت شدید متاثر ہو رہی ہے۔
رکن اسمبلی عبدالمجید بادینی نے ماہ رمضان کے دوران گیس لوڈشیڈنگ کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ جعفرآباد سمیت مختلف علاقوں میں گیس کی بندش سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے جنرل منیجر کو ایوان میں طلب کیا جائے۔
اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے یقین دہانی کرائی کہ جی ایم سوئی گیس کو طلب کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر سلیم کھوسہ نے کہا کہ کیسکو چیف اور جی ایم سوئی گیس کو متعدد بار طلب کیا جا چکا ہے تاہم صرف طلب کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہو رہا۔
رکن اسمبلی غزالہ گولہ نے کہا کہ کوئٹہ میں سحری اور افطاری کے اوقات میں گیس کی عدم دستیابی سے نہ صرف عوام کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ انسانی جانوں کو بھی خطرات لاحق ہو رہے ہیں، اس لیے اس مسئلے پر فوری نظرثانی کی جائے۔
ایوان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ صوبے میں امن و امان کی بحالی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ بعد ازاں اجلاس کو 25 فروری تک ملتوی کر دیا گیا۔

WhatsApp
Get Alert