حب میں خون بہا تو صوبائی حکومت اور بھوتانی برادران ذمہ دار ہوں گے، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری

(ڈیلی قدرت کوئٹہ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا ہے کہ پی بی 21 حب میں جاری ریکاؤنٹنگ کے عمل کے دوران اگر کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی، فائرنگ، قتل و غارت گری یا ہنگامہ آرائی کی گئی تو اس کی تمام تر ذمہ داری براہِ راست صوبائی حکومت اور متعلقہ انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی تو اس کا جواب وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، چیف سیکرٹری بلوچستان اور بھوتانی برادران کو دینا ہوگا، کیونکہ امن قائم رکھنا ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ ہم پرامن لوگ ہیں اور ہمارا سیاسی و جمہوری راستہ ہمیشہ آئین اور قانون کے تابع رہا ہے۔ ہم کسی بھی صورت انتشار، تشدد یا بدامنی کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے بلکہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے مکمل طور پر قانونی اور آئینی جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریکاؤنٹنگ ایک قانونی عمل ہے جس کا مقصد صرف شفافیت کو یقینی بنانا اور عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرنا ہے، لہٰذا کسی بھی فریق کو اشتعال انگیزی یا طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی نے امن خراب کرنے کی کوشش کی تو یہ نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہوگی بلکہ جمہوری اقدار پر بھی حملہ تصور کیا جائے گا، اور ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ سینیٹر نے زور دیا کہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریکاؤنٹنگ کے پورے عمل کو غیر جانبدار، شفاف اور پُرامن بنائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال رہے اور جمہوریت مضبوط ہو۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے جو فیصلہ دیا ہے اس کا احترام ہر حال میں کیا جانا چاہیے اور کسی کو بھی طاقت یا دباؤ کے ذریعے نتائج کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم اپنے آئینی اور جمہوری حق کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے اور کسی بھی قسم کی دھونس، دھمکی یا تشدد سے مرعوب نہیں ہوں گے، کیونکہ حق اور قانون کی بالادستی ہی ہمارا اصل مقصد ہے۔
