بلوچستان ہائیکورٹ کا بڑا حکم: مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پر عملدرآمد معطل، تمام الاٹمنٹس پر پابندی عائد

(ڈیلی قدرت کوئٹہ) چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس نجم الدین مینگل پر مشتمل بینچ نے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پر عملدرآمد روکتے ہوئے صوبائی حکومت سے فوری جواب طلب کر لیا ہے۔ سماعت کے دوران پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے عبدالرحیم زیارتوال اور نوابزادہ لشکری رئیسانی اپنے وکلاء کے ہمراہ پیش ہوئے، جہاں عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے جواب جمع نہ کرانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک ایکٹ کے تحت تمام نئی الاٹمنٹس پر پابندی لگا دی ہے۔ درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ اس ایکٹ کے ذریعے صوبائی خود مختاری کو پامال کر کے اختیارات وفاقی حکومت کو منتقل کیے گئے ہیں، جس سے مقامی لوگ اپنے قدرتی وسائل سے محروم ہو رہے ہیں۔ سابق سینیٹر لشکری رئیسانی اور عبدالرحیم زیارتوال نے عدالتی فیصلے کو صوبے کے وسائل کے تحفظ کے لیے بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وسائل پر غیر ضروری اثرات کے خلاف قانونی و آئینی چارہ جوئی جاری رہے گی۔
