مستونگ کو قلات سے الگ کرنا تاریخی غلطی، کوئٹہ کو تین اضلاع میں تقسیم کیا جائے، نوابزادہ جمال رئیسانی کا وزیراعلیٰ سے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال خان رئیسانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ مستونگ تخت قلات اور تخت سراوان کا اہم اور تاریخی حصہ ہے، مستونگ کو قلات ڈویژن سے نکال کر کوئٹہ ڈویژن میں شامل کرنا تاریخی غلطی ہے جسے کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان سمیت تمام کابینہ ارکان سے گزارش کی ہے کہ اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے؛ نوابزادہ جمال رئیسانی کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک بات کوئٹہ شہر کی ہے تو کوئٹہ کو دو اضلاع کے بجائے تین میں تقسیم کیا جانا چاہیے اور کوئٹہ کے ہر قومی اسمبلی کے حلقے کو ایک ضلع قرار دیا جائے، جس سے گورننس کی بہتری اور عوام کو سہولیات کی فراہمی میں بھی آسانی ممکن ہوسکے گی۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ اگر واقعی بڑے ڈویژن کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے گورننس بہتر کرنی ہے تو مستونگ کو قلات کے ساتھ ایک ہی ڈویژن میں شامل کیا جائے۔
