کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکیج: عید الفطر تک سڑکوں کی تعمیر مکمل کرنے کا حکم، رکاوٹیں ڈالنے پر برہمی، بلوچستان ہائیکورٹ نے حکام کو طلب کر لیا

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکیج کے تحت سائنس کالج، ہاکی چوک سے سریاب ریلوے کراسنگ تک سڑکوں کی تعمیر اور انفراسٹرکچر سے متعلق آئینی درخواست کی سماعت کی، جس کے دوران ایڈیشنل چیف سیکرٹری (ACS) ڈویلپمنٹ زاہد سلیم نے تعمیراتی کام کی ٹائم لائن عدالت میں پیش کی۔ عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ اکرم ہسپتال سے ہاکی چوک تک مین روڈ کی تعمیر اور اسفالٹ کا کام عید الفطر سے قبل مکمل کر لیا جائے گا، جبکہ سروس روڈ، فٹ پاتھ، لین مارکنگ اور اسٹریٹ لائٹس سمیت دیگر تمام متعلقہ کام 30 اپریل 2026 تک مکمل ہوں گے۔
سریاب سروس روڈ اور اسٹورم واٹر ڈرین کے حوالے سے بتایا گیا کہ نکاسی آب کا 98 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ سماعت کے دوران پراجیکٹ ڈائریکٹر نے ایس ایس جی سی (SSGC) کی گیس پائپ لائنز اور اسفالٹ پلانٹ کے حوالے سے پولیس کی جانب سے پیدا کردہ رکاوٹوں کا ذکر کیا، جس پر عدالت نے حکم دیا کہ ایس ایس جی سی فوری طور پر پائپ لائنز کی منتقلی یقینی بنائے اور ڈی آئی جی کوئٹہ رینج کو ہدایت کی کہ ہنا روڈ پر واقع اسفالٹ پلانٹ کے کام میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ کی جائے۔
عدالت نے این-25 (کراچی تا چمن) روڈ کی دو رویہ تعمیر پر بھی پیش رفت رپورٹ طلب کی، جبکہ گاہی خان چوک اور سریاب کسٹم پر زیر تعمیر اوور ہیڈ برجز کے حوالے سے سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو (C&W) اور متعلقہ پراجیکٹ ڈائریکٹرز کو اگلی سماعت پر تصویری ثبوتوں کے ساتھ ذاتی طور پر پیش ہونے کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔
