خطہ مست سانڈوں کا میدانِ جنگ بن رہا ہے، بمباریاں حل نہیں، تمام ادارے اور اسٹیک ہولڈرز ملک کو بچانے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھیں، محمود خان اچکزئی

(ڈیلی قدرت کوئٹہ) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خطے کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ہمسائیوں سے لڑائیاں کسی کے مفاد میں نہیں ہوتیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں “جیو اور جینے دو” کی بنیاد پر افغانستان اور ایران سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے تعلقات کو ٹھیک کرنا چاہیے کیونکہ خطہ اس وقت انتہائی خطرناک حالت میں ہے؛ ایران کے گرد امریکی افواج کی موجودگی اور سمندروں کی جانب بڑھتے ہوئے امریکی بیڑے اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم ٹھنڈے دماغ سے سوچیں اور ایک مشترکہ علاقائی حکمت عملی طے کریں۔ محمود خان اچکزئی نے واضح کیا کہ افغانستان کے ساتھ حالات ابھی اس نہج پر نہیں پہنچے کہ انہیں مذاکرات کے ذریعے حل نہ کیا جا سکے، بمباریاں اور فوجی کارروائیاں مسائل کا حل نہیں ہیں؛ انہوں نے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ امن کے داعی ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو وہ دونوں طرف بات چیت کے ذریعے امن کی راہ نکالنے کے لیے تیار ہیں کیونکہ مذاکرات بڑی بڑی جنگوں کے دوران بھی جاری رہتے ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے مزید کہا کہ ہندوستان اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو بھی نظر میں رکھنا چاہیے اور مزید دشمنیاں پالنے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ کمال دار لوگ وہی ہیں جو بحرانوں میں مذاکرات کے ذریعے راستہ نکالیں۔ ملکی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ موجودہ حالات اور بیرونی خطرات سے نمٹنا اکیلی حکومت کے بس کی بات نہیں ہے، اس کے لیے افواجِ پاکستان، ججز، سیاست دانوں اور معاشی ماہرین سمیت تمام اداروں کو مل بیٹھ کر سوچنا ہوگا تاکہ ملک کو اور اس خطے کو بڑی طاقتوں کا میدانِ جنگ بننے سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے اپیل کی کہ دشمنیوں کی طرف جانے کے بجائے واضح حقائق پر مبنی مذاکرات شروع کیے جائیں کیونکہ باتوں سے ہی باتیں حل ہوتی ہیں۔
