کوئٹہ میں ڈاکو راج، فائرنگ سے 2 شہری قتل، پولیس ناکوں تک محدود، پشتونخوامیپ کا شدید احتجاج

کوئٹہ(ڈیلی قدرت نیوز) پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ کے جاری کردہ ایک بیان میں شہر میں فائرنگ اور ڈکیتی کے دو مختلف واقعات میں قدرت اللہ اچکزئی اور صفدر یوسفزئی کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقی بائی پاس پرکانی گلی میں دکان میں موجود قدرت اللہ اچکزئی کو مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کیا، جس کی ایف آئی آر منظور ترین شہید پولیس تھانہ میں درج ہونے کے باوجود اب تک قاتلوں کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ اسی طرح نوا کلی زرغون آباد فیز ون میں ڈاکوں نے فائرنگ کر کے درزی صفدر یوسفزئی کو موت کے گھاٹ اتار دیا، جو کہ شہر کی مخدوش امن و امان کی صورتحال کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پارٹی نے واضح کیا کہ ایک جانب چوری، ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائمز نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے تو دوسری جانب پولیس صرف عام شہریوں کو ناکوں اور گشت کے دوران غیر ضروری طور پر تنگ کرنے، تلاشیوں اور کاغذات کی طلبی میں مصروف ہے، جبکہ جرائم پیشہ عناصر دیدہ دلیری سے وارداتیں کر کے باآسانی فرار ہو جاتے ہیں۔بیان میں آئی جی پولیس بلوچستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ قدرت اللہ اچکزئی اور صفدر یوسفزئی کے قتل کے سفاکانہ واقعات میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کر کے مقتولین کے خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے اور شہر میں امن و امان کی بحالی کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ پولیس تھانوں میں درجنوں ایف آئی آرز درج ہونے کے باوجود ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں نہ لانا پولیس کی ناکامی ہے۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی نے دونوں شہدا کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ تعالی مرحومین کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ پارٹی قیادت نے خبردار کیا کہ اگر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈان نہ کیا گیا تو عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔
