پاک ایران کشیدگی: سرحد کی بندش سے مکران اور رخشاں ڈویژن میں معاشی بحران، سرحدی تجارت بحال کر کے ریلیف پیکج دیا جائے، میر رحمت صالح بلوچ


کوئٹہ (ڈیلی قدرت نیوز) نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر میر رحمت صالح بلوچ نے ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کے نتیجے میں بلوچستان کے سرحدی اضلاع کو درپیش سنگین معاشی مشکلات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکران اور رخشاں ڈویژن کی معیشت کا دارومدار ایران کے ساتھ سرحدی تجارت پر ہے، لیکن گزشتہ چار روز سے جاری جنگی صورتحال اور سرحد کی بندش کی وجہ سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار معطل ہو چکا ہے۔ اس صورتحال سے نہ صرف پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے بلکہ اشیائے خوردونوش کی قلت اور مہنگائی کا ایک نیا طوفان کھڑا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس کے لیے حکومت کو فوری طور پر متبادل سپلائی لائنز فعال کرنی ہوں گی۔دریں اثنا، میر رحمت صالح بلوچ نے ایرانی قونصل خانے کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے لیے فاتحہ خوانی کی اور قونصل جنرل سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایرانی حکام کو یقین دلایا کہ بلوچستان کے عوام مشکل کی اس گھڑی میں اپنے ایرانی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور امید ظاہر کی کہ ایرانی قوم اس بحران سے سرخرو ہو کر نکلے گی۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرحدی تجارت سے وابستہ چھوٹے تاجروں، مزدوروں اور ٹرانسپورٹرز کے لیے فوری مالی معاونت کا بندوبست کیا جائے اور عوام کو ممکنہ انسانی و معاشی بحران سے بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ریلیف پیکج کا اعلان کیا جائے۔

WhatsApp
Get Alert