عالمی معیشت سنگین خطرے میں؟ تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، سپلائی چین متاثر


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)عالمی منڈی میں بدھ 4 مارچ 2026 کو خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے سے تیل کی پیداوار اور برآمدات شدید متاثر ہو رہی ہیں جس سے عالمی سپلائی چین میں خلل پیدا ہوگیا ہے۔
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے جواب میں ایران نے توانائی کے اہم تنصیبات اور بحری گزرگاہوں کو نشانہ بنایا۔ ان اقدامات کے نتیجے میں تیل کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور عالمی منڈی میں قیمتیں اوپر چلی گئیں۔
بین الاقوامی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت ایک ڈالر سے زائد اضافے کے بعد تقریباً 82.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جو ایک فیصد سے زیادہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ یہ جنوری 2025 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت بھی تقریباً ایک فیصد اضافے کے ساتھ 75 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی جو جون کے بعد کی بلند ترین سطح سمجھی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی صورتحال ہے جہاں ایران کی جانب سے کئی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل ہوتی ہے۔ حالیہ حملوں کے بعد یہ اہم بحری راستہ مسلسل چوتھے روز بھی مؤثر طور پر بند رہا جس کے باعث برآمدات معطل ہو گئیں۔
عراق جو اوپیک کا دوسرا بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے نے ذخیرہ کرنے کی محدود گنجائش اور برآمدی راستوں کی بندش کے باعث اپنی یومیہ پیداوار میں تقریباً 15 لاکھ بیرل کمی کر دی ہے جو اس کی مجموعی پیداوار کا لگ بھگ نصف بنتی ہے۔ حکام کے مطابق اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو ملک کو یومیہ تقریباً 30 لاکھ بیرل تک پیداوار عارضی طور پر روکنا پڑ سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر امریکی بحریہ تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے میں مدد فراہم کرے گی۔ انہوں نے امریکی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن کو ہدایت کی ہے کہ خلیجی خطے میں بحری تجارت کے لیے سیاسی خطرات کی انشورنس اور مالی ضمانتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیان کے بعد قیمتوں میں اضافے کی رفتار کچھ حد تک سست ہوئی۔
ادھر کئی ممالک نے متبادل ذرائع تلاش کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ بھارت اور انڈونیشیا نے توانائی کے دیگر وسائل کی جانب رجوع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ چین کی بعض آئل ریفائنریز نے مرمت کے اپنے شیڈول میں تبدیلی کر دی ہے جبکہ سعودی عرب کی سرکاری کمپنی سعودی آرامکو ریڈ سی کے راستے کچھ برآمدات منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ آبنائے ہرمز پر انحصار کم کیا جا سکے۔
امریکہ میں گزشتہ ہفتے خام تیل کے ذخائر میں 5.6 ملین بیرل کا غیر متوقع اضافہ بھی سامنے آیا ہے جبکہ سرکاری اعداد و شمار جلد جاری کیے جائیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال عالمی معیشت پر دباؤ بڑھا سکتی ہے تاہم امریکی یقین دہانیوں سے مارکیٹ کو وقتی سہارا ملا ہے۔

WhatsApp
Get Alert