نئی سولر پالیسی سے صارفین میں تشویش، گرڈ گنجائش اور نیٹ میٹرنگ قواعد میں سختی


اسلام آباد: پاکستان میں حالیہ سولر توانائی پالیسیوں نے صارفین کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں، جس کے بعد گھریلو اور تجارتی صارفین میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
حالیہ ہدایات کے مطابق وفاقی ادارے Power Planning and Monitoring Company نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو آگاہ کیا ہے کہ اگر کسی ٹرانسفارمر پر سولر جنریشن لوڈ 80 فیصد تک پہنچ جائے تو نئے سولر کنکشن منظور نہیں کیے جائیں گے۔ یہ ہدایات صرف لاہور تک محدود نہیں بلکہ ملک کی دیگر تقسیم کار کمپنیوں جیسے Islamabad Electric Supply Company (آئیسکو)، Multan Electric Power Company (میپکو) اور Faisalabad Electric Supply Company (فیسکو) پر بھی لاگو ہوں گی۔
ماہرین کے مطابق اس پالیسی کے بعد سولر سسٹم لگانے والے صارفین کی تعداد ٹرانسفارمر کے لوڈ کے مطابق محدود ہو جائے گی۔ 250 کلوواٹ سے زائد صلاحیت کے سسٹمز کے لیے لازمی لوڈ فلو اسٹڈی بھی کرائی جائے گی، جس سے کئی رہائشی اور کمرشل علاقوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات ریورس پاور فلو، وولٹیج میں اضافے اور گرڈ کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔
سولر توانائی کے ماہر یاسر صدیقی کا کہنا ہے کہ بجلی صارفین پر اس نوعیت کی پابندیاں غیر منصفانہ ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو گرڈ کی مجموعی استعداد بڑھانی چاہیے نہ کہ سولر صارفین کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سولر کے بغیر گرڈ کنکشن مہنگا اور کم مؤثر ہوتا ہے، جس سے صارفین پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔
دسمبر میں National Electric Power Regulatory Authority (نیپرا) نے پروزیومر ریگولیشنز میں ترمیم کرتے ہوئے نیٹ میٹرنگ قواعد تبدیل کیے تھے۔ نئی پالیسی کے تحت سولر سے گرڈ میں بھیجی جانے والی بجلی 11 سے 13 روپے فی یونٹ کے حساب سے خریدی جائے گی، جبکہ گرڈ سے حاصل کی جانے والی بجلی مکمل ٹیرف پر وصول کی جائے گی۔ اس کے علاوہ گرین میٹرز کی کمی اور مہنگے اے ایم آر میٹرز بھی صارفین کے لیے اضافی بوجھ بن رہے ہیں۔
حکومت نے درآمدی سولر پینلز پر 10 فیصد ٹیکس بھی عائد کیا ہے، جس سے سولر سسٹمز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدامات بجلی کے شعبے کے گردشی قرضے اور آئی پی پیز کو کی جانے والی کیپسٹی پیمنٹس کے توازن کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
تاہم توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ سولر صارفین کی حوصلہ شکنی کے بجائے حکومت کو گرڈ کو سولر کے لیے تیار کرنا چاہیے، بیٹری اسٹوریج اور ہائبرڈ سسٹمز کو فروغ دینا چاہیے اور نیٹ بلنگ کی بہتر شرحیں متعارف کرانی چاہئیں۔ ان کے مطابق خود استعمال (سیلف کنزمپشن) کے لیے سولر اب بھی فائدہ مند ہے، لیکن اس کے فروغ کے لیے عملی اصلاحات ناگزیر ہیں۔

WhatsApp
Get Alert