کارکنان اپنے ضمیر سے سوال کریں جس سوشل میڈیا پر عمران خان کی رہائی کے لیے ہر لمحہ آوازیں بلند ہوتی تھیں، آج غیر معمولی خاموشی کیوں طاری ہے؟ شیرافضل مروت

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) رکن اسمبلی شیر افضل مروت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر پی ٹی آئی کے مخلص کارکنان کے نام پیغام جاری کیا ہے، جس میں ان کا کہنا ہے کارکنان! ذرا ٹھنڈے دل اور کھلے ذہن کے ساتھ اپنے ضمیر سے ایک سوال ضرور کیجیے، آخر وہ سوشل میڈیا جس پر کل تک خان صاحب اور دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے ہر لمحہ آوازیں بلند ہوتی تھیں، آج اس پر ایسی غیر معمولی خاموشی کیوں طاری ہے؟ وہ کنٹینر کہاں گیا جسے بڑے جوش کے ساتھ “رہائی یا موت” کا نام دیا گیا تھا؟ وہ احتجاجی ولولہ کہاں ہے جسے ہر روز انقلاب کی تمہید کے طور پر پیش کیا جاتا تھا؟ اور وہ “عمران ریلیز فورس” کہاں ہے جس کے نام پر کارکنوں کے جذبات کو گرمایا گیا تھا؟
شیر افضل مروت نے کہا یہ بھی یاد رکھیے کہ یہی سوشل میڈیا کل تک روزانہ علی امین کو اس بنیاد پر تنقید کا نشانہ بناتا تھا کہ وہ وزیراعلیٰ ہیں اور انہیں خان صاحب کی رہائی کے لیے سب کچھ داؤ پر لگا دینا چاہیے۔ آج وہی پیمانہ باقی قیادت کے لیے کیوں غائب ہو گیا ہے؟ کیا گزشتہ پانچ مہینوں میں کوئی ایسی سنجیدہ اور منظم سرگرمی سامنے آئی ہے جسے جدوجہد یا جرات کی مثال کہا جا سکے؟ اگر نہیں، تو پھر کارکنان کو خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ آیا وہ محض نعروں سے مطمئن ہو چکے ہیں یا واقعی رہائی کی عملی کوشش دیکھنا چاہتے ہیں۔
ایک اور پہلو جس سے غفلت مناسب نہیں، وہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کا کردار ہے۔ سوشل میڈیا کسی بھی تحریک کی آواز اور سمت متعین کرنے والا آلہ ہوتا ہے۔ اگر یہی پلیٹ فارم دو رخی طرزِ عمل اختیار کر لے، کبھی خاموشی اور کبھی وقتی نعروں سے جذبات کو ابھارنا تو کارکنان کے لیے حقیقت اور تاثر میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ کارکنان اس پہلو پر بھی ہوشیار نظر رکھیں اور ہر آواز کو محض جوش نہیں بلکہ عقل و شعور کی کسوٹی پر پرکھیں۔جس کی ایک عملی حقیقت بھی پیش نظر رہے، موسمِ گرما تیزی سے سر پر آ رہا ہے۔ عید کے بعد آنے والی شدید گرمی اور ہیٹ ویوز کسی بھی احتجاجی تحریک کو فطری طور پر سست کر دیتی ہیں۔ اگر اس سے پہلے کوئی واضح حکمتِ عملی سامنے نہیں آتی تو خدشہ ہے کہ یہ معاملہ مزید طوالت اختیار کر جائے گا۔
انہوں نے کہا تاریخ کا ایک سادہ اصول ہے، تحریکیں نعروں سے نہیں بلکہ تسلسل، جرات اور سچائی سے زندہ رہتی ہیں۔ کارکنان کا فرض ہے کہ وہ نہ تو مایوسی کا شکار ہوں اور نہ اندھی وابستگی میں حقیقت سے آنکھیں بند کریں۔ اصل وفاداری یہی ہے کہ سوال پوچھا جائے، احتساب کیا جائے اور اس مقصد کو زندہ رکھا جائے جس کے لیے یہ تحریک وجود میں آئی تھی۔
پی ٹی آئی کے مخلص کارکنان کے نام:
کارکنانِ تحریکِ انصاف! ذرا ٹھنڈے دل اور کھلے ذہن کے ساتھ اپنے ضمیر سے ایک سوال ضرور کیجیے: آخر وہ سوشل میڈیا جس پر کل تک خان صاحب اور دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے ہر لمحہ آوازیں بلند ہوتی تھیں، آج اس پر ایسی غیر معمولی خاموشی کیوں طاری ہے؟…— Sher Afzal Khan Marwat (@sherafzalmarwat) March 5, 2026
