بلوچستان: کروڑوں کی خرد برد پر اینٹی کرپشن کا کریک ڈاؤن، میونسپل کمیٹیز کے 4 موجودہ اور سابق چیف آفیسرز عدالت سے گرفتار


کوئٹہ (ڈیلی قدرت نیوز) اینٹی کرپشن بلوچستان نےعدالت سے ضمانت منسوخ ہونے پر کروڑوں کی خرد برد کے الزام میں میونسپل کمیٹیز کے چار موجودہ چیفس آفیسرز اور سابق چیف کو گرفتار کر لیا جبکہ دیگر کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں تحقیقات کے بعد 9آفیسران کے خلاف مقدمات درج کئے گئے تھے اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن بلوچستان نصیب اللہ کاکڑ کی ہدایت پر ڈپٹی ڈائریکٹر انویسٹیگیشن 1کی نگرانی میں ٹیم نے میونسپل کمیٹیز نے موسیٰ خیل، مچھ اور اوستہ محمد میں بد عنوانی کے سنگین الزامات موثر کاروائی کی اور تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی معلومات میں بعض سابق چیف آفیسران نے کروڑوں روپے کے ترقیاتی فنڈز کو بدنیتی کے ساتھ غیر ترقیاتی مد میں منتقل اور خرچ کئے جو مالی قواعد ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے کیونکہ اس سے عوامی ترقیاتی منصوبے متاثر ہوئے تحقیقات میں ثابت ہو ا کہ ملوث آفسران نے سرکاری فنڈز کو نا جائز طور پر استعمال کرتے ہوئے مجرمانہ بد دیانتی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا ارتکاب کیا ہے جس کے نتیجے میں سرکاری خزانہ کو بھاری نقصان پہنچا ہے تحقیقات کے نتیجے میں سابق چیف آفیسران میونسپل کیمٹی علی محمد، محمد یعقوب، ولی محمد، آزاد خان،عبدالمجید، محمد رفیق، منظور احمد، بشیر احمد پلال، بشیر احمد سدایو پر مقدمات درج کرتے ہوئے اینٹی کرپشن ٹیم نے2فروری کو کاروائی کرتے ہوئے سابق چیف آفیسران میونسپل کمیٹی موسیٰ خیل ولی محمد اور محمد رفیق کو گرفتار کر لیا جبکہ دیگر ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے تھے ذرائع نے بتایاکہ چار موجودہ چیفس عبدالمجید، بشیر احمد پلال، بشیر احمد سدایو، محمد یعقوب اور ایک سابق چیف منظور احمد کو عدالت کی جانب سے ضمانت منسوخ ہونے پر عدالت کے احاطے سے گرفتار کر لیا جبکہ دو کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں ذرائع نے بتایا کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان بد عنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کے سرکاری وسائل کے غلط استعمال میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انکے خلاف قانون کے مطابق سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

WhatsApp
Get Alert