آپریشن غضب للحق: اب تک 583 طالبان ہلاک، 242 پوسٹیں، 213 ٹینکس اور بکتر بند گاڑیاں تباہ

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)پاک فوج کے افغانستان میں جاری آپریشن غضب للحق کے دوران اب تک افغان طالبان رجیم کے 583 کارندے ہلاک اور 795 زخمی ہیں جب کہ 242 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردی گئی ہیں اور 38 پر قبضہ کیا جاچکا ہے۔
افغانستان سے دہشت گردی اور بلا اشتعال جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے آپریشن غضب للحق کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔
اتوار کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے آپریشن غضب للحق کے دوران افغان طالبان کے خلاف کی جانے والی جوابی کارروائیوں کے اعداد و شمارجاری کیے ہیں۔
✅Operation Ghazb lil Haq
✅Update 1600 hours 8 March✅Summary of Afghan Taliban losses
▪️583 Killed,
▪️795+ Injured
▪️242 Check posts destroyed
▪️38 Posts captured & destroyed
▪️213 tanks, armoured vehicles, artillery guns destroyed
▪️64 locations across Afghanistan…— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) March 8, 2026
عطا تارڑ کے مطابق آپریشن کے دوران افغان طالبان کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، اب تک آپریشن میں ہلاک ہونے والے افغان طالبان اہلکاروں کی تعداد 583 ہوگئی ہے جب کہ افغان طالبان کے 795 سے زائد اہلکار زخمی ہیں۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ افغان طالبان رجیم کی 242 چیک پوسٹیں تباہ کر دی گئی ہیں اور پاکستان سیکیورٹی فورسز نے 38 افغان پوسٹوں پر قبضہ حاصل کر لیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک افغان طالبان رجیم کے 213 ٹینکس، بکتر بند گاڑیاں اور آرٹلری گنز (توپیں) تباہ کی جاچکی ہیں، افغانستان بھر میں 64 مقامات کو فضائی کارروائی میں مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔
خیال رہے کہ جمعرات 26 فروری کی رات پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں پاکستان کی مسلح افواج کا آپریشن غضب للحق جاری ہے۔
پاک فوج نے افغانستان کی حدود کے اندر مختلف مقامات پر جوابی کارروائیاں کیں اور کابل، قندھار اور پکتیا سمیت دیگر مقامات پر موجود عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا اور کئی چیک پوسٹیں تباہ کیں۔
