فاٹا اور بلوچستان کے طلبہ کی میڈیکل نشستوں میں کٹوتی تعلیم دشمنی ہے، 666 سیٹوں کے وعدے کے برعکس 121 کر دی گئیں، خوشحال خان کاکڑ کا قومی اسمبلی میں آواز اٹھانے کا اعلان

کوئٹہ (ڈیلی قدرت نیوز) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں وسطی پشتونخوا، سابقہ فاٹا اور پشتون۔بلوچ مشترکہ صوبے کے طلبہ کے لیے مختص میڈیکل نشستوں میں کمی کے حالیہ فیصلے پر شدید تشویش اور احتجاج کا اظہار کرتے ہوئے اسے تعلیم دشمن پالیسیوں کا مظہر قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے جس سے ہزاروں باصلاحیت طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے؛ اس سلسلے میں ملی شہید سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے بھرپور جدوجہد کر کے یہ نشستیں بحال کرائی تھیں تاکہ محروم علاقوں کے طلبہ کو اعلیٰ طبی تعلیم مل سکے، لیکن بعد میں آنے والی حکومتوں نے ان میں بتدریج کمی کر کے امتیازی سلوک کا ثبوت دیا ہے۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں متاثرہ طلبہ کے وفد نے پارٹی چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی خوشحال خان کاکڑ سے ملاقات کی، جس پر انہوں نے یقین دلایا کہ وہ اس معاملے کو قومی اسمبلی سمیت ہر فورم پر اٹھائیں گے۔ پریس ریلیز کے مطابق سال 2018 میں عثمان خان کاکڑ کی کوششوں سے PMDC نے 333 نشستیں مختص کی تھیں اور وعدہ کیا گیا تھا کہ پانچ سال بعد انہیں بڑھا کر 666 کر دیا جائے گا، لیکن حکومت نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے انہیں مزید کم کر کے صرف 121 کر دیا ہے، جس سے نوجوانوں میں شدید مایوسی اور احساسِ محرومی پیدا ہوا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ وسطی پشتونخوا، سابقہ فاٹا اور بلوچستان کے طلبہ پہلے ہی سہولیات کی کمی اور معاشی مسائل کا شکار ہیں، ایسے میں نشستیں کم کرنا ان کے روشن مستقبل کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرنے کے مترادف ہے؛ پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ وفاقی حکومت اور متعلقہ ادارے فوری طور پر کٹوتی کا فیصلہ واپس لے کر نشستوں کی تعداد وعدے کے مطابق 666 کریں، بصورت دیگر پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی پارلیمنٹ، عدالتوں اور سڑکوں پر بھرپور جمہوری احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے تاکہ پسماندہ علاقوں کے طلبہ کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کا ازالہ ہو سکے۔
